رپورٹ کے مطابق فلسطینی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے غزہ کی پٹی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر محمود عباس نے پارلیمنٹ کو بائی پاس کرتے ہوئے اپنی مرضی سے ایک متنازع دستوری عدالت کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔ صدر کے اس اقدام کو فلسطین کی نمائندہ سیاسی قوتوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔
انہوں نے فلسطین کی تمام سیاسی قوتوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ صدر محمود عباس کی جانب سے دستوری عدالت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔
ڈاکٹر احمد بحر کا کہنا تھا کہ صدرعباس کی جانب سے دستوری عدالت کے فیصلے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ایک متنازع عدالت کی تشکیل کے بعد پیدا ہونے والے قانونی تنازعات اور اس کے منفی نتائج کی ذمہ داری صدر محمود عباس پرعاید ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں صدر محمود عباس نے فلسطین میں سپریم آئینی عدالت کی تشکیل کا اعلان کیا تھا جس پر فلسطینی بڑی سیاسی و مذہبی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ سمیت کئی دوسری جماعتوں نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا تھا۔
فلسطینی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر نے آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے ایک قانونی نکتہ اٹھایا اور کہا کہ صدر محمود عباس آئینی طورپر سنہ 2009 ء کے بعد ملک کے صدر نہیں رہے ہیں۔ ان کی مدت صدارت سنہ 2009 ء کو ختم ہوگئی تھی جس کے بعد وہ ریاست کے کسی بھی اعلیٰ ادارے کی تشکیل مجاز نہیں ہیں۔نیز ایسا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل صدر پارلیمنٹ سے صلاح مشورے کے پابند ہیں مگرانہوں نے دستوری عدالت کی تشکیل کے معاملے میں پارلیمنٹ کو یکسر نظرانداز کیا ہے۔
