مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ فلسطین کے سنہ 1948 ء کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے درز قبیلے کے ایک فلسطینی نوجوان 18 سالہ مصطفیٰ زھد الدین اسعد نے بتایا کہ اسے اور اس کے کئی دوسرے ساتھیوں اور اقارب کو صہیونی حکام کی جانب سے باربار فوج میں بھرتی ہونے کی ترغیبات دیں لیکن انہوں نے کھل کر کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج میں بھرتی نہیں ہوں گے۔
رام اللہ میں ایک ثقافتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسعد نے کہا کہ اسرائیلی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ درز قبیلے کےفلسطینیوں کو فوج میں بھرتی کرے لیکن ہمارے قبیلے کے تمام نوجوانوں نے واضح کردیاہے کہ اسرائیلی فوج میں بھرتی ہونے کا مطلب اپنی قوم کے خلاف ہتھیار اٹھانا ہے اور ہم ایسا کسی صورت میں نہیں کرسکتے ہیں۔
فلسطینی نوجوان کا کہنا تھا کہ فوج میں بھرتی ہونے سےانکار پراسے گرفتار کیا گیا اور اس زندگی اجیرن بنانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ فوج میں بھرتی نہ ہونے کے اپنے اصولی موقف پر ڈٹا رہا ہے۔
فلسطینی نوجوان نے بتایا کہ اس سے قبل اس کے بڑے بھائی کو بھی اسرائیلی فوج میں بھرتی کرنے کی کوشش کی گئی تو اس نے بھی صاف انکار کردیا۔ فوج میں بھرتی سے انکار پر اسے سات بار گرفتار کیا گیا اور 160 دنوں تک حراست میں رکھا گیا، اس دوران اسے بار بار فوج میں بھرتی ہونے کے لیے کہا جاتا مگر اس نے بھی انکار کردیا تھا۔
درز قبیلے کے نوجوان کا کہنا تھا کہ ہم چار جوان بھائی ہیں اور ہم چاروں کو فوج میں بھرتی ہونے کے لیے ترغیبات دی گئیں۔ ہم سب نے انکار کردیا۔ ہمارے قبیلے کے کئی دوسرے نوجوانوں کو بھی فوج میں بھرتی کے لیے کہا گیا مگر سب نے کھل کر انکار کردیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
