مسجد اقصی پر شر پسند یہودی آبادکاروں کے دھاوے جاری ہیں، اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور یہودیوں کی جانب سے مسجد میں نمازیوں پر تشدد اور قرآن کی بے حرمتی کے واقعات کے بعد ایک بار پھر یہودیوں کے جتھے نے قبلہ اول میں داخل ہوکر اشتعال انگیز کارروائیاں کی ہیں۔
اوقاف اسلامی کے ذرائع نے بتایا کہ پچاس سے زائد یہودی آباد کاروں نے مراکشی دروازے سے مسجد اقصی پر دھاوا بولا، اسرائیلی پولیس کی مکمل حفاظت میں مسجد کے صحن میں چہل قدمی شروع کر دی اور نمازیوں کو زدوکوب کرنا شروع کر دیا۔
ذرائع کے مطابق یہودی آباد کاروں کی اسرائیلی پولیس، صہیونی فوج اور سرحدی گارڈز کی مکمل حفاظت میں مسجد اقصی میں گھس کر تلمودی عبادات کی ادائیگی کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔ اسرائیلی فورسز کے حملوں نے مسجد کے حالات انتہائی کشیدہ کر دیے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں کے دوران ایک اسرائیلی رکن پارلیمان کی طرف سے گنبد صخرہ پر دھاوے کی کوشش، صہیونی اہلکاروں کی مسجد اقصی میں قرآن کی بے حرمتی، جمعہ کے روز درجنوں نمازیوں پر بہیمانہ تشدد اور مسجد کی راہداریوں میں تعلیم کے لیے آنے والی طالبات کے مسجد میں داخلے پر پابندی کے اقدامات نے فلسطینیوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
