مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق برطانیہ میں قائم فلسطین اسٹڈی سیںٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ابراہیم حمامی نے جنرل ضاحی خلفان کے متنازع بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے بیانات دینے والے اسرائیل کے سامنے فلسطینیوں کو شکست تسلیم کرنے کی پالیسی پرچل رہے ہیں۔ ضاحی خلفان کو اس بات پرغصہ ہے کہ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل نے سعودی عرب کا دورہ کیوں کیا۔ انہوں نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد شہزادہ محمد بن نائف اور نائب ولی عہد شہزادہ محمد بن عبدالعزیز سے کیوں کر ملاقات کی؟۔
خیال رہے کہ دبئی کے ڈپٹی پولیس چیف جنرل ضاحی خلفا نے حال ہی میں "ٹیوٹر” پراپنے ایک بیان میں خالد مشعل کے دورہ سعودی عرب کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے لکھا تھا کہ خالد مشعل کو اندازہ ہوا کہ ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کے بعد اب ایران میں ان کی اہمیت گرچکی ہے۔ اس لیے وہ دوڑے دوڑے سعودی عرب پہنچے تاکہ ریاض حکومت انہیں سہارا دے۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے دھتکارے جانے کے بعد اب حماس کی قیادت سعودی عرب سے مدد کی فریادیں کرتی پھرتی ہے۔ اگر خالد مشعل کے پاس کوئی خیر ہوتی تو وہ تحریک فتح کے ساتھ مل کرچلتے کیونکہ فلسطین میں تحریک مزاحمت کا آغاز فتح نے کیا تھا۔ لیکن ان کے پاس کوئی خیر نہیں ہے۔ اس لیے وہ کبھی ایران اور کبھی سعودی عرب کی طرف مدد کے لیے دیکھتے ہیں۔
ضاحی خلفان کے اس استہزائی بیان پر ڈاکٹر ابراہیم حمامی کا کہنا تھا کہ خلفان جیسے لوگ یہ چاہتے ہیں کہ فلسطینی اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈال دیں۔ سفید جھنٹدا اٹھائیں اور اسرائیل جو کرتا رہے اس کی ہاں میں ہاں ملانا شروع کردیں۔
اںہوں نے کہا کہ ضاحی خلفان کے بیان سے صاف لگ رہا ہے کہ وہ "سیاسی افلاس” کا شکار ہیں۔ فلسطینی تحریک آزادی اوراسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی آئینی تحریک مزاحمت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں۔ حماس کی قیادت پر بلا جواز تنقید سے ان کی سیاسی مایوسی کا برملا اظہار ہو رہا ہے۔ ان کی خالد مشعل پرتنقید سے تحریک آزادی فلسطین پرکسی قسم کا منفی اثر نہیں پڑے گا۔ تاہم ایک ذمہ دار پولیس افسرہونے کے ناطے انہیں اس طرح کے متنازع بیانات دینےسے گریز کرنا چاہیے جس کےنیتجے میں دشمن کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہو۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
