مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے قلقلیہ سے تعلق رکھنے والے حوتری خاندان نے بچوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والے بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں قید اس کے دو بچوں کی رہائی کے لئے مداخلت کریں۔
علی اور محمود الحوتری کی والدہ نے کہا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے ان کے بیٹوں کو جون کے مہینے میں حراست میں لیا تھا اور ان کی حراست کی کوئی وجہ بھی بیان نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ 18 سالہ علی اور 16 سالہ محمود کو ایک ہفتے کے لئے تفتیشی مرکز میں رکھا گیا اور اس کے بعد انہیں مجیدو جیل میں منتقل کردیا گیا ہے کہاں وہ اسرائیلی فوجیوں پر پٹرول بم پھینکنے اور پتھرائو کرنے کے مقدمے کی سماعت کا انتطار کررہے ہیں۔
اسرائیلی حکام نے 200 سے زائد کم سنوں کو اپنی حراست میں لے رکھا اور عالمی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان میں کچھ کے خلاف کافی سخت سزائیں بھی دے دی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
