فلسطینی جماعتوں سے مفاہمت کے باوجود فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے مغربی کنارے میں حماس کے رہنماؤں، کارکنوں اور حامیوں کی پکڑ دھکڑ مہم جاری ہے۔ گزشتہ دوز حماس کے متعدد کارکنوں کو گرفتار کرنے کے بعد
آج بھی عباس ملیشیا نے الخلیل سے ایک حماس کے ایک رہنما کو اغوا کر لیا ہے۔ جبکہ دوسرے رہنما کو تفتیش کے لیے طلبی کے نوٹسز جاری کر دیے گئے ہیں۔
تاریخی شہر الخلیل میں پری وینٹو فورسز نے نایف الحروب،جو 1992ء میں لبنان کے علاقے مرج الزھور کی جانب در بدر کیے جانے والے رہنماؤں میں بھی شامل ہیں، کو حراست میں لے یا، دوسری جانب اتھارٹی فورسز نے سابق اسیر دورامیں قائم القدس یونیورسٹی کے طالب علم عبد اللہ الرجوب کو تفتیش کے لیے سکیورٹی فورسز کے ہیڈ کوارٹر حاضر ہونے کا حکم نامہ بھی سنایا۔
فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے اپنے ہی ہم وطنوں کے خلاف مظالم کی ایک صورت اس وقت دیکھنے کو ملی جب اتھارٹی کے عقوبت خانوں میں قید اسیر معاذ ابوجحیشہ کے اہل خانہ نے بتایا کہ ابو جحیشہ کی صحت شدید خراب ہے اور اسے ابتک دو مرتبہ ہسپتال منتقل کیا جا چکا ہے۔
خیال رہے کہ معاذ محمد مطلق ابو جحیشہ کے بیٹے ہیں، ان کےوالد اسرائیلی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ ابو جحیشہ کوچار روز قبل کر کے پری وینٹو فورسز کی جیل منتقل کیا گیا تھا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

