فلسطین میں صدر محمود عباس کے زیرکمانڈ سیکیورٹی فورسز کے اسرائیلی فوج کے غیراعلانیہ تعاون کے دوران مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیوں کے واقعات اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔
ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ مغربی کنارے میں اسلامی تحریک مزاحمت”حماس” کے اسیر اراکین سے جو تفتیش فلسطینی انتظامیہ دوران حراست کر چکی ہے، اسرائیلی فوجی بھی اسی اندازمیں اور وہی تفتیش جیلوں میں کر رہے ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اسرائیلی تفیتش کاروں نے حماس کے دو رہ نماؤں پچاس سالہ ڈاکٹر محمد السید اور چھیالیس سالہ قاضی محمد فریحات سے مقبوضہ فلسطین کی جیل”جلمہ” میں تفتیش کی۔ اسرائیلی فوجیوں نے جو سوالات جس ترتیب سے حماس کےمحروس رہ نماؤں سے پوچھے بالکل وہی تفتیش ماضی میں فلسطینی اتھارٹی کے تفتیش کار بھی ان سے کر چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطینی تفتیش کاروں نےجو الزامات عائد کرکے اعترافات کرانے کی کوشش کی تھی، اسرائیلی فوجیوں اور تفتیش کاروں نے بھی اسی انداز میں الزامات عائد کرنے کےبعد ان سے اعترافات جرم کرانے کی کوشش کی ہے۔ ڈاکٹر السید اور قاضی فریحات کا کہنا ہے کہ ان سے فلسطینی تفتیش کار جنین جیل میں وہی کچھ پوچھ چکے ہیں جو اسرائیلی فوجی ان سے حراست کے دوران پوچھتے ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے گذشتہ مہینے القدس اوپن یونیورسٹی کے لیکچرار ڈاکتر محمد السیداور قاضی فریحات کو جنین جیلوں سے حراست میں لیا تھا۔ اس سے قبل وہ فلسطینی اتھارٹی کی مختلف جیلوں میں بھی زیر حراست رہ چکے ہیں۔
قاضی فریحات کے مقدمہ کی سماعت بارہ فروری تک ملتوی کردی ہے جبکہ ڈاکٹر محمد السید کے وکیل کو ان سے ملنے سے روک دیا گیا ہے۔

