اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ذمہ دار خفیہ ادارے”شاباک” نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں مقبوضہ مغربی کنارے کے اسکولوں اور جامعات میں سرگرم اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کی طلباء تنظیم کو نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم”یکجہتی فاؤنڈیشن” کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ "شاباک” کے حکام نے حماس سے وابستہ طلباء تنظیم "اسلامک بلاک” کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ مرتب کی ہے۔ اس رپورٹ میں اسلامک بلاک کی سرگرمیوں اور تنظیم سے وابستہ طلباء کی تعداد بیان کرنے کے بعد اسے اسرائیل کی سلامتی کے لیے نہایت خطرناک قرار دیا ہے۔
شاباک کی تیار کردہ رپورٹ کو "اسلامک بلاک اور خطرے کا الارم” کا عنوان دیا گیا ہے۔ جامعہ القدس سے عبرانی زبان میں گریجوایشن کرنے والی ایک خاتون عہدیدار جو صہیونی انٹیلی جنس کے شعبے میں انسداد دہشت گردی سکواڈ میں تیرہ سال کا وسیع تجربہ بھی رکھتی ہیں، نے رپورٹ کی تیاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹ میں سنہ 2007ء سے 2013ء کے درمیان مغربی کنارے میں حماس کے کارکنوں کی جانب سے مزاحمتی سرگرمیوں اور سنہ 2010 ء سے 2012ء کےدوران مغربی کنارے کی جامعات اور اسکولوں میں حماس کی طلباء تنظیم کی تعلیمی سرگرمیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حماس سے وابستہ طلباء تنظیم” اسلامک بلاک” جماعت کے سیاسی خلاءکو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسی طلباء گروپ کے تیار کردہ افراد تنظیم میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو رہے ہیں۔ یوں یہ تنظیم محض چند ہزار طلباء کی نمائندہ ہی نہیں بلکہ حماس کے عسکری اور سیاسی ڈھانچے کی اولین سیڑھی اور نرسری ہے جہاں پرحماس کے مستقبل کی قیادت تیار کی جاتی ہے۔
رپورٹ میں لکھا ہےکہ سنہ 1987ء میں حماس کےقیام کے بعد تنظیم نے ایک جانب خود کو اسرائیل کےخلاف منظم کرنے کے لیے عسکری ونگ قائم کیا اور دوسری جانب فلسطینی معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط بنانے کے لیے طلباء کے اندر اثرورسوخ بڑھانے کی کوششیں شروع کیں۔ فلسطینی شہرغزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کےقیام کے بعد اس کے طلباء ونگ کو آبیاری کا مزید موقع ملا جو اب تیزی سے پھلنے پھولنے لگی ہے۔ مغربی کنارے میں حماس کی طاقت اور قوت کو محورومرکز یہی طلبا تنظیم ہے جو کم وبیش تمام تعلیمی اداروں میں اپنی جڑیں قائم کرچکی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت حماس کی طلباء تنظیم کی اہم ترین کامیابی یہ ہے کہ اس نے مغربی کنارے کے اسکولوں اور کالجوں حتی کہ جامعات میں شفاف الیکشن کے ذریعے اپنا لوہا منوا لیا ہے۔ فلسطینی تعلیمی اداروں میں بھی کسی دوسری سیاسی جماعت کے حمایت یافتہ طلباء گروپ کو وہ پذیرائی نہیں مل رہی ہے جو حماس کے "اسلامک بلاک” کو ملی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
