اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ فلسطین کی سب سے بڑی سیاسی و مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے گزشتہ رات غزہ کی حدود پر بارودی مواد نصب کیا اور اس سے ہونے والے دھماکے کے دوران اسرائیلی فوجی کو اغوا کرنے کی کوشش کی ہے۔
کثیر الاشاعت اسرائیلی روزنامے ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کی مشرقی سرحد پر بارودی سرنگ کے دھماکے کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اسی نوعیت کا تھا جس کے مطابق اس سے قبل اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی جانب سے نصب کیا گیا بارودی مواد انتہائی خطرناک تھا جس کے پھٹنے سے چار میٹر چوڑا اور پانچ میٹر لمبا گڑھا پڑ گیا
کثیر الاشاعت اسرائیلی روزنامے ’’یدیعوت احرونوت‘‘ نے اسرائیلی فوجی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کی مشرقی سرحد پر بارودی سرنگ کے دھماکے کی تحقیقات کی جارہی ہیں کہ اس کا اصل مقصد کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکہ اسی نوعیت کا تھا جس کے مطابق اس سے قبل اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرنے کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ اسرائیلی فوجی ذرائع نے بتایا کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ کی جانب سے نصب کیا گیا بارودی مواد انتہائی خطرناک تھا جس کے پھٹنے سے چار میٹر چوڑا اور پانچ میٹر لمبا گڑھا پڑ گیا
اس سے قبل اسرائیلی وزیر دفاع حماس کو اس طرح کی کسی بھی کارروائی سے باز رہنے کی تنبیہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے باور کروایا تھا کہ اسرائیلی فوج کو اغوا کرنے کی کوئی بھی کوشش حماس کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوگی۔
