اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ حماس کے ترجمان سامی ابو زھری نے مصر کے سابق وزیر داخلہ محمود وجدی کے اس بیان کی تردید کردی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ تھا کہ مصری انقلابی تحریک کے دوران اخوان نے حماس کی مدد سے جیلوں پر حملے کیے تھے۔
خیال رہے کہ مصری انقلابیوں نے 25 جنوری 2011ء کو تیس سال سے برسر اقتدار حسنی مبارک کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ حماس کے ترجمان ابو زھری نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ سابق مصری وزیر داخلہ کی جانب سے حماس پر مصری جیلوں پر حملوں کے الزامات بے بنیاد ہیں اور موضوع سے غیر متعلق ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ مصری انقلابی واقعات کے ساتھ حماس کے کسی قسم کے تعلقات نہیں رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ انقلابی تحریک کے دوران مصری جیلوں سے فرار ہونے والے فلسطینیوں کو مصری فوج نے گرفتار کیا تھا، تاہم ان کے مقدمات پرنظر ثانی کے بعد ان کی رہائی کا فیصلہ کیا گیا تھا اور انہیں غزہ کی پٹی میں داخل کردیا گیا تھا۔ ان سب کی غزہ آمد مصر میں ان کی رہائی کے فیصلے کے بعد ہوئی۔
ابو زھری نے بتایا کہ مصری صدر حسنی مبارک اپنے دور میں ان قیدیوں کو رہا کرنے سے انکار کرتا رہا تھا حالانکہ مصری عدالتیں ان کی رہائی کا فیصلہ سنا چکی تھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایک فلسطینی قیدی انہیں مصری جیلوں میں کیے گئے بہیمانہ تشدد کے دوران جاں بحق بھی ہو چکا ہے۔
انہوں نے مصری عدالت سے مطالبہ کیا کہ بے گناہ فلسطینی کی جیل میں موت کے ذمہ داروں کا ٹرائل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سابق مصری وزیر داخلہ کی جانب سے حماس پر یہ الزام بھی اسی سیاسی کھیل کا حصہ ہے جو مصر میں حماس کو بدنام کرنے کے لیے کھیلا جارہا ہے۔
قبل ازیں مصری عدالتی ذرائع نے بتایا تھا کہ سابق مصری وزیر داخلہ محمود وجدی نے قاھرہ کے شمال مشرق میں واقع اسماعیلیہ کی ایک عدالت میں بیان دیا ہے کہ 25 جنوری کے انقلاب کے دوران حماس اور الاخوان المسلمون نے باہمی تعاون سے مصری جیلوں پر حملہ کیا تھا۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
