جرمنی کی ایک بڑی سیاسی جماعت”سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی” نے یورپ، امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے شامل مذکرات کریں۔ سوشلسٹ پارٹی کا کہنا ہے کہ حماس فلسطین۔
اسرائیل مسئلے کے حل کا حصہ ہے اور اسے کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
مرکزاطلاعات فلسطین کےمطابق جرمن سوشلسٹ جماعت کے لیڈر "زیگمار گابیریل” نے ان خیالات کا اظہار جرمن خبررساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حماس کو شامل کیے بغیر فلسطین کے مسئلے پر کوئی بات چیت کامیاب نہیں ہو سکتی۔ حماس فلسطین ۔اسرائیل کشمکش کے حل کا حصہ ہے، اسے نظرانداز کرنا احمقانہ ہو گا۔
ایک سوال کے جواب میں جرمن سیاست دان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک فلسطینی تنظیموں حماس اور فتح کے درمیان حقیقی مفاہمت کا حامی ہے، کیونکہ فلسطینیوں کے درمیان مفاہمت کے بغیر اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو سکتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل اس لیے مذاکرات میں شش و پنج میں ہے کہ اگر وہ فلسطین کی کسی ایک جماعت سے مذاکرات کرتا ہےتو اس کےساتھ کیے گئے معاہدے پرعمل درآمد کرے لیے دوسری جماعت کو کیسے قائل کرے گا۔
خیال رہے کہ جرمن سیاستدان گابیرل نے منگل کو مقبوضہ فلسطین کے دورے کے دوران اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے بھی ملاقات کی۔ ان کے اس دورے کے دوران غزہ کی پٹی کا دورہ بھی شامل تھا تاکہ اسرائیلی فوج کے حملوں کے باعث انہوں نے غزہ کا دورہ ملتوی کر دیا۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

