فلسطین میں مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی صدر محمود عباس کے زیرانتظام فوج کے سربراہ میجر جنرل عدنان ضمیری نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” کے ساتھ مفاہمت کی بات چیت میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔
حماس کے ساتھ مفاہمتی مذاکرات صرف اسرائیل کو مذاکرات پرآمادہ کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ ورنہ حماس کے کہنے پر فلسطینی سیکیورٹی انتظامیہ میں کسی قسم کا رد و بدل نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایسا کیا جاتا ہے تو مغربی کنارے میں کیے دھرے پر پانی پھر جائے گا۔
ذرائع کے مطابق میجرجنرل عدنان ضمیری کی جانب سے ایک خصوصی پیغام مغربی کنارے کے تمام علاقوں کے سیکیورٹی مراکزمیں بھیجا گیا جسے سیکیورٹی اہلکاروں کو پڑھ کر سنایا گیا ہے۔
جنرل ضمیری کا کہا ہے کہ "ہم حماس کے ساتھ مذاکرات کی بات اس لیے کرتے ہیں تاکہ اسرائیل کے ساتھ بات چیت سے متعلق اپنے مقاصد پورے کیے جا سکیں، کیونکہ اسرائیل فلسطینی اتھارٹی کی شرائط پر مذاکرات کی حمایت سے دور جا رہا تھا، اسے قریب لانے کے لیے حماس سے مفاہمت کا راستہ تل ابیب پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا گیا۔ دراصل حماس کے ساتھ فتح کے مذاکرات نہ تو کامیاب ہوں اور نہ ہی انہیں کامیاب کیا جائے گا۔
جنرل عدنان ضمیری نے سیکیورٹی حکام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ انتخابات کے نتیجے میں زمام کار فتح سے حماس کے ہاتھ میں جانے کی صورت میں بھی سیکیورٹی کی پالیسی تبدیل نہیں کریں گے۔ اگر مغربی کنارے میں بھی حماس کی حکومت قائم ہو گئی تو وہ سیکیورٹی معاملات کو اپنی مرضی کے مطابق چلائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی مرضی کے بغیر پارلیمانی اور صدارتی انتخابات نہیں ہو سکتے اور نہ وہ مجلس قانون ساز کو فعال ہونے دیں گے۔

