اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے رہنما ڈاکٹر صلاح بردویل نے کسی بھی ایسی خبر کی تردید کی جس میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مصر نے حماس سے مسلح مزاحمت ترک کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایسے الزامات مصر اور حماس کے درمیان تعلق خراب کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
بردویل نے ایک بیان میں کہا کہ ان کی تنظیم مزاحمت ترک نہیں کرے گی اور کوئی ان کی تنظیم سے مزاحمت چھوڑنے کا مطالبہ کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
انہوں نے کہا کہ "مصری بھائی فلسطینی مزاحمت کا احترام کرتے ہیں اور اس کو سراہتے ہیں کیونکہ اپنی تمام صورتوں میں یہ ایک جائز حق ہے تو انہوں نے ایسی کوئی درخواست کی ہے نہ ایسا کرنے کا سوچتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تنظیم کسی ملک کے اندرونی معاملات میں دخل نہیں دیتی اور نہ ہی اپنے معاملات میں بیرونی مداخلت قبول کرتی ہے۔
ایک عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے جمعرات کے روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ مصر نے حماس سے بین الاقوامی اعتراف کے لئے اپنی مسلح مزحمت ترک کرنے کا کہا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
