عرب خبر رساں ایجنسی” قدس پریس” کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صہیونی فوجیوں کے حملے میں اردنی جج کی فلسطین میں شہادت کے رد عمل میں اردنی قوم نے جو جرات مندانہ موقف اختیار کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ اردنی حکومت اورقوم کی جانب سے صہیونی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے جواب میں جرات مندانہ موقف سامنے آیا ہے۔ اس موقف کو آگے بڑھانے اور مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
حماس رہ نما اسامہ حمدان نے صہیونی فوج کے ہاتھوں اردن کے ایک سینیئر جج رائد زعیتر کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے شہید کے اہل خانہ سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ عمان کے ایک جج کی فلسطین میں صہیونی فوج کے حملے میں شہادت کے بعد اردنی پارلیمنٹ نے قابل تحسین موقف اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کرنے کا درست مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس اور اردن کے درمیان تزویراتی تعلقات کو اس انداز میں مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حالات کے اتارو چڑھاؤ حماس اور عمان کے تعلقات کو کمزور نہ کر سکیں۔
حماس رہ نماء اسرائیل سے سفارتی تعلقات رکھنے والے تمام مسلمان اورعرب ممالک پر زور دیا کہ وہ صہیونی ریاست کے ساتھ کیے گئے امن معاہدوں پر نظرثانی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر کے اسے تحفظ دینے کی نہیں بلکہ اسے تنہا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں اسرائیل کی توسیع پسندی کو نکیل ڈالی جا سکے۔
اسامہ حمدان نے کہا کہ ان کی جماعت کسی عرب اور پڑوسی ملک کے اندرونی معاملات میں داخل اندازی نہیں کر رہی ہے۔ حماس پر پڑوسی ملکوں میں مداخلت کے الزامات قطعی بے بنیاد ہیں۔
