فلسطین کی دوبڑی جماعتوں اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” اور صدر محمود عباس کی جماعت الفتح کی مفاہمتی معاملات طے کرنے کی ذمہ دار کمیٹی کا اجلاس کل بدھ کے روز غزہ میں ہوا۔ اجلاس میں دونوں جماعتوں کے درمیان مفاہمتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس میں دونوں جماعتوں کے درمیان چند روز قبل بیت حنون گذرگاہ سے فتح کے وفد کےغزہ داخلے کے تنازع سے پیدا ہونے والی رنجشیں دور کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اجلاس میں دیگر جماعتوں کے اراکین کو بھی کمیٹی میں شامل کرنے اور کمیٹی کا ڈھانچہ مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حماس کے رہ نماء ڈاکٹر اسماعیل رضوان نے کہا کہ غزہ میں ہونے والے کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ مفاہمت کا عمل آگے بڑھانےکے لیے قائم دیگر کمیٹیوں کے سربراہان کو بھی اب اس کمیٹی میں شامل کیا جائے گا تاکہ کمیٹی کا ڈھانچہ مکمل کیا جا سکے۔ کمیٹی میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ کا اجلاس پیر کو ہو گا جس میں مزید کئی دیگر اراکین کو بھی شامل کیا جائے گا۔
ڈاکٹر اسماعیل رضوان کا کہنا تھا کہ حماس اور فتح کے درمیان چند روز قبل بیت حنون واقع سے پیدا ہونے والی رنجشیں دور کر لی گئی ہیں اوردنوں جماعتوں نے معمولی نوعیت کے واقعات کو مفاہمت کی راہ میں حائل نہ ہونے دینے پر اتفاق کیا ہے۔ خیال رہے کہ ایک ہفتہ پیشتر مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے درمیان بیت حنون گذرگاہ سے غزہ داخل ہوتے ہوئے فتح کے ایک وفد کو حماس کی حکومت نے روک دیا تھا جس کے بعد دونوں جماعتوں کی قیادت میں ایک دوسرے پر الزامات عائد کیے گئے تھے۔

