اسرائیلی ریڈیو نے دعوی کیا ہے کہ فلسطینی مزاحمت کار نے جمعرات کی صبح مغربی کنارے کے شہر نابلس میں واقع حضرت یوسف علیہ السلام کی مقبرے کے قریب اسرائیلی فوج پر فائرنگ کی. فائرنگ کا واقعہ اس وقت ہوا جب سیکڑوں صہیونی آبادکاروں نے فوج کے فراہم کردہ کور میں حضرت یوسف علیہ السلام کے مقبرے پر حملے کی کوشش کی.
ریڈیو کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے مبینہ مزاحمت کار کی فائرنگ کا جواب دیا جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی شہری زخمی ہو گیا. صہیونی ریڈیو نے دعوی کیا ہے کہ زخمی ہونے والا فلسطینی ہی دراصل فوج پر فائرنگ کر رہا تھا، مضروب کو بتاح تکفا شہر کے بنلسون ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اس کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے.
نابلس سے مرکز اطلاعات فلسطین کے نمائندے نے اپنے مراسلے میں بتایا ہے کہ جمعرات کو علی الصباح سیکڑوں یہودی آبادکاروں کی جانب سے حضرت یوسف علیہ السلام کے مقبرے پر حملے اور وہاں نام نہاد دینی عبادات کی ادائی کی کوشش فلسطینی مزاحمت کاروں نے بروقت کارروائی کے بعد ناکام بنا دی. اس موقع پر ہونے والی جھڑپوں میں متعدد فلسطینی شہری زخمی ہوئے.
حملہ آور صہیونی آبادکاروں کو اسرائیلی فوج کا کور فائر حاصل تھا اور جھڑپوں کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینی مزاحمت کارروں پر آنسو گیس کے گولوں اور ساٶنڈ بم استعمال کیے جس کے نتیجے میں متعدد شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے.
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
