اردنی حکومت کی وزارت کے سرکاری ترجمان سمیح معایطہ کا کہنا تھا کہ ’’اسلامی مقدسات اور حرم قدسی پر کسی قسیم کے قبضے کی کوشش اردنی حکومت کی قیمت پر ہوگی۔
سمیح معایطہ نے خبر دارکیا کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اس قسم کے بیانات سے خطے میں مذہبی جنگ شروع ہونے کے امکانات بڑھ چکے ہیں، صہیونی حکومت اس قسم کے بیانات کے ضمن میں القدس شہر کو یہودی رنگ میں رنگنے کا سلسشہ جاری ہے۔
ان کا کہنا تھا ’’اردن کی حکومت ان بیانات کے خطرناک نتائج کاانتظار کر رہی ہے۔ اس طرح کے بیانات سے خطے میں ایک ایسی مذہبی جنگ شروع ہوجائیگی جس پر قابو پانا کسی کے بس میں نہ ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسطرح کے بیانات کا مقصد 1921ء سے القدس شریف کے تحفظ کے لیے اردن کے کردار کو کم کرنے کی کوشش ہے، انہوں نے مستقبل میں پیدا ہونے والے خراب حالات کی ساری ذمہ داری اسرائیلی حکومت پر عائد کی۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
