بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے ٹارچرسیلوں میں زیرحراست کم عمرفلسطینیوں سے جعلی جرائم کے اعترافات کے لیے انہیں اذیت ناک تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
دفاع برائے حقوق اطفال کی جانب سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی تفتیش کار اور فوجی منظم انداز میں زیرحراست فلسطینی بچوں کے ساتھ ظلم کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق عقوبت خانوں میں پابند سلاسل کم عمر اسیروں کو رات کے اوقات میں آنکھوں پر پٹیاں باندھنے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تشدد کا یہ سفاکانہ طریقہ اس لیے استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اسیران کے پاس ان کے وکلاء یا والدین میں سے کوئی موجود نہ ہو۔ چنانچہ وحشیانہ اور ہیبت ناک طرزعمل پر مبنی تفتیش کے ذریعے نوعمر اسیروں سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے اوپر عائد تمام الزامات کو من وعن تسلیم کر لیں ورنہ انہیں رہا نہیں کیا جا سکتا۔ نیز جعلی جرائم کے اعترافات نہ کرنے پر جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم نے جیلوں میں ہونے والے تشدد کے حوالے سے یہ رپورٹ 311بچوں کے بیانات کی روشنی میں تیار کی ہے۔ انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیلوں میں زیرحراست بیشتر فلسطینی بچوں کو یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں پر پتھراؤ کے الزام میں حراست میں رکھا جاتا ہے، جبکہ عالمی قوانین کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمرکے افراد کو بغیر کسی سنگین جرم کےحراست میں رکھنا عالمی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

