فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی جاری ہے۔ منگل کو اسرائیلی فوج نے جنین شہر اور وہاں پر موجود پناہ گزین کیمپوں میں فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مارے، شہریوں پر تشدد کیا اور توڑ پھوڑ کے بعد متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔
جنین سے مقامی ذرائع نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ منگل کو یہودی فوجیوں نے شہر اور اس کے مضافات میں موجود فلسطینی پناہ گزین کیمپوں پر کئی بار چھاپے مارے۔ اسرائیلی فوج کی غنڈہ گردی کے خلاف مشتعل شہری سڑکوں پر نکل آئے۔ قابض فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم تین فلسطینی زخمی ہوگئے جبکہ کریک ڈاؤن میں چھ فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ جنین شہر میں گھر گھر تلاشی کے دوران اسرائیلی فوج نے کم سے کم بیس گھروں میں قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کی۔ اس دوران اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین "اونروا” کی ایک گاڑی بھی صہیونی فوج کی غنڈہ گردی کا نشانہ بنی جسے تباہ کر دیا گیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مشتعل شہریوں نے قابض فوجیوں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں دشمن فوج نے براہ راست فائرنگ کے ساتھ اشک اور گیس کی شیلنگ بھی کی۔ جھڑپوں کے بعد چھ افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ حراست میں لیے جانے والوں میں یزن نصفت جرار، عبداللہ، الصفوری اور ابراہیم المسلمانی شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
