فلسطینیوں کے خلاف صہیونی فوج کی ظالمانہ کارروائیوں کا کوئی ایسا حربہ نہیں جو استعمال نہ کیا گیا ہو۔ نت نئے نئے طریقوں اور بہانوں سے فلسطینیوں کو گرفتار کرنا صہیونی فوج کا وطیرہ ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے انکشاف کیا ہےکہ اسرائیلی فوج کو جنگی مشقوں کے دوران فلسطینیوں کو پکڑنے کی تربیت فراہم کرنےکے لیے انہیں باقاعدہ فلسطینی آبادیوں میں داخل کیا جاتا رہا ہے اور وہ محض اپنے تجربات اور مشقوں کی غرض سے فلسطینیوں کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں حراست میں لیتے رہے ہیں۔
ظلم یہ ہے کہ بغیر کسی الزام اور جرم کے حراست میں لیے گئے ان فلسطینیوں پر جعلی مقدمات بنا کر انہیں پابند سلاسل کیا جاتا ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم”بین الاقوامی یکجہتی فاؤنڈیشن برائے انسانی حقوق” گذشتہ کچھ عرصے کے دوران صہیونی فوجی فلسطینیوں کے قصبوں اور مہاجر کیمپوں میں گھس کر فلسطینیوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں لے جاتی رہی ہے۔
فوجیوں کو فلسطینی شہریوں کو حراست میں لینے کی تربیت فراہم کرنے کی اس انوکھی وارادت کے دوران دسیوں فلسطینیوں کو حراست میں لے کر جیلوں میں ڈالا جاتا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بعض فلسطینیوں کو حراست میں لینے کے بعد انہیں فوجی تفتیشی مراکز میں لے جایا جاتا رہا ہے جہاں ان سے مختصر پوچھ گچھ کے بعد انہیں رہا کر دیا جاتا تھا۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی محض تجرباتی کوشش کے دوران فلسطینیوں کو حراست میں لیتی لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا جاتا۔ فوجی اس دوران صرف یہ دیکھتے کہ آیا ان کی یہ کارروائی کامیاب رہی یا ناکام ثابت ہوئی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم نے ثبوت کے طور پر آٹھ فلسطینیوں کے بیانات بھی قلم بند کیے ہیں۔ ان آٹھ فلسطینیوں کو چند روز قبل نابلس کے مشرق میں کفر قلیل گاؤں سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے گھروں میں موجود تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے اچانک ان کے گھروں میں چھاپہ مارا اور وہ انہیں حراست میں لے کر نامعلوم مقامات کی جانب لے گئے۔ تاہم اگلےروز انہیں چھوڑ دیا گیا۔
رپورٹ کےمطابق جنگی مشقوں کے دوران چھاپہ مار کارروائیوں میں صرف فلسطینیوں کی گرفتاریاں ہی نہیں ہوتیں بلکہ یہودی فوجی فلسطینیوں کے گھروں میں گھس کر خواتین اور بچوں کوزد و کوب کرتے، گھریلو ضرورت کے سامان کی توڑپھوڑ کرتے اور قیمتی چیزیں قبضے میں لینے کی بھی ٹریننگ کرتے ہیں۔ جنگی مشقوں میں انہیں یہ باقاعدہ ایک ٹاسک دیا جاتا ہے کہ وہ کس طرح فلسطینیوں کی آبادیوں میں گھس کر انہیں گرفتار کر سکتے ہیں اور انہیں کیسے خوف زدہ کیا جا سکتا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

