اسرائیلی اخبار”ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں آرمی چیف جنرل بینی گانٹز نے کرنل "عوڈیڈ غور آوی” کی سربراہی میں ایک نیا کمیشن تشکیل دیا ہے۔ کرنل آوی سابق نیول چیف رہ چکے ہیں۔ ان کی نگرانی میں قائم کردہ کمیشن میں وزارت دفاع، وزارت قانون و انصاف، وزارت خارجہ اور کیبنٹ ڈویژن کے نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ یہ تمام اسرائیلی فوجیوں پر عالمی عدالتوں میں چلنے والے جنگی جرائم کے مقدمات کا جواب تیار کریں گے اور یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ اسرائیلی فوج پر فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات بےبنیاد ہیں۔
اخبار لکھتا ہے کہ جلد ہی آرمی چیف اس کمیشن سے دوبارہ ملاقات کریں گے اور انہیں یہ بتایا جائے گا کہ وہ عالمی سطح پر جنگی جرائم کے الزامات اور مقدمات کو جھوٹا کیسے ثابت کر سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج نے جولائی اور اگست کے دوران51 روز تک وحشیانہ طاقت کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 2200 عام شہری شہید اور 11 ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
حالیہ جنگ اور کئی سابقہ جنگوں میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں کئی عالمی عدالتوں میں صہیونی فوج کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
