مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی ریاست کے ساتھ سیاحتی، سفارتی اور تجارتی تعلقات ختم کرنے کے فیصلے پر فلسطین میں خوشی کی لہردوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق سوموار کو تیونس کی سوسہ کے مقام پر قائم عدالت نے تیونس سے اردن کے راستے بیت المقدس کے لیے ہفتہ وار چلنے والی سیاحتی پروازیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اسرائیل کے لیے سیاحتی پروازوں کا سلسلہ رواں ماہ مارچ ہی سے بند کیا جائے۔
تیونس کی عدالت کے فیصلے پرملک کے سیاسی اور سماجی حلقوں کی جانب سے مثبت رد عمل سامنے آیا۔ مبصرین اور سیاسی جماعتوں نے فیصلے کو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے اس پر فوری طورپر عمل درآمد کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ تیونسی عدالت نے اسرائیل سے سیاحتی تعلقات ختم کرنے کا حکم دے کر مظلوم فلسطینی عوام سے یکجہتی کا بہترین فیصلہ دیا ہے۔
خیال رہے کی تیونس میں اسرائیل سے تعلقات کے خلاف سرگرم تنظیم’’قاوم‘‘ نے پچھلے ماہ اسرائیلی عدالت میں ایک درخواست دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ سیاحتی تعاون اور پروازوں کی آمد و رفت تیونس کے آئین اور قانون کے منافی ہے۔ عدالت اسرائیل سے سیاحتی پروازویں بند کرنے کا حکم صادر کرے۔
درخواست میں کہا گیا تھا کہ تیونس سے پروازوں اردن جانا اور وہاں سے تیونسی شہریوں کا بیت المقدس اور اسرائیل کی سیرکے لیے جانا صہیونی ریاست کے بیت المقدس پرناجائز قبضے کو تسلیم کرنے کی کوشش ہے۔ لہٰذا اسے ہرصورت میں بند ہونا چاہیے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
