فلسطین کے تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے قبلہ اول کا گھیراؤ کرنے کے لیے خطرناک ترین ایک صہیونی منصوبے کا انکشاف ہوا ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق مقبوضہ بیت المقدس میں تاریخی مقامات کے تحفظ کے لیے قائم””مسلم۔ کریسچین کمیٹی برائے تحفظ القدس” نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس بالخصوص مسجد اقصٰی کے گرد و پیش میں اسرائیلی وزارت داخلہ اور ضلعی حکومت کے اشتراک سے تعمیر کیے جانے توراتی پارک قبلہ اول کے لیے خطرناک ترین منصوبہ ہے کیونکہ اس منصوبے کے ذریعے بیت المقدس کے بیشتر تاریخی مقامات اور آثار کو ختم کر کے ان پر پارک تعمیر کر لیے جائیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "توراتی باغات” کا اسرائیلی منصوبہ مکمل طور پر مسجداقصیٰ کے چاروں طرف تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعے قدیم بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کو ان پارکوں کے درمیان گھیر دیا جائے گا۔ پبلک پارکس کی آڑ میں مسجد اقصیٰ تک رسائی کے فلسطینیوں کے تمام راستے بند کر دیے جائیں گے۔
رپورٹ کے مطابق توراتی باغات کا سلسلہ مسجد قصیٰ کے شمال میں عیسویہ کے مقام سے شروع ہو کر راس العمود، جبل طور کے مشرق، سلوان، جبل مبکر سے ہوتا ہوا، برک سلطان اور میلا کے مغرب ایک مرتبہ پھر قبلہ اول کے دوسرے کونے کے قریب جا کر ختم ہوتا ہے۔
القدس اسلامی مسیحی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ قبلہ اول کے آس پاس اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے بلڈوزروں کے ذریعے جاری کھدائیاں قبلہ اول کو نقصان پہنچانے کی سازشوں کا حصہ ہیں۔ اسرائیلی توراتی پارکوں کی تعمیر کے منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے القدس کی تاریخی دیوار کے بالمقابل مسجد اقصی کے باب الساہرہ اور یوسفیہ قبرستان کے قریب جمعہ بازار تک کھدائی کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے گرد و پیش میں توراتی باغات کا سلسلہ چند سال پیشتر شروع کیا تھا،اب تک اس منصوبے کے تحت مسجد اقصیٰ کے شمال مغرب میں باب الخلیل اور باب الجدید کے درمیان تعمیر کیا گیا ہے، اس کے بعد اس سلسلے کو باب العمود اور اموی دور کے محلات کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔

