• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

تنظیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کا مطالبہ

جمعرات 01-01-2015
in فلسطین
0
plf plo-restucture
0
SHARES
1
VIEWS

یورپی ممالک میں موجود فلسطینی تارکین وطن کی نمائندہ تنظیموں نے فلسطینی اتھارٹی سے ایک بار پھر تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کی سیاسی اور جمہوری بنیادوں پر تشکیل نو کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق یورپ میں موجود فلسطینی تارکی وطن کی نمائندہ تنظیموں کی جانب سے مشترکہ طور پر ایک بیان جاری کیا گیاہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی جمہوری بنیادوں اور اصولوں کے تحت تنطیم آزادی فلسطین کی تشکیل نو کرے اور اس کے ساتھ ساتھ معاہدہ روم پر دستخط کرنے میں مزید تاخیر سے کام نہ لیا جائے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قوم کے اجتماعی فیصلوں کو موثر اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے کہ تمام فلسطینی قیادت ایک فورم پر متحد ہو، مشترکہ قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس میں قوم کے تمام طبقات کی بھرپور نمائندگی دی جائے۔ پھر یہ متحدہ قومی فورم فلسطینی قوم کے منصفانہ حقوق اور مطالبات کے لیے اجتماعی شکل میں آواز بلند کرے۔ فلسطینی قوم کے سلب شدہ حقوق کے حصول کا اس سے بہتر اور کوئی راستہ نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسئلہ فلسطین کی عالمی حمایت کے لیے اندرون اور بیرون ملک فلسطینیوں کی یونینز کو بھی فعال اور دوبارہ سے منظم کیا جائے اور ان کے داخلی اور خارجی مسائل کے حل میں ان کی مدد کی جائے۔

بیان میں فلسطینی اتھارٹی سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ وہ عالمی عدالت انصاف میں شمولیت کے لیے جلد از جلد فیصلہ کرے۔ بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فلسطینی اتھارٹی جس تیزی کے ساتھ عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کا حصہ بنے گی فلسطینیوں کو آزادی کے لیے جدو جہد میں اتنی ہی آسانی ہوگی اور فلسطینی قوم اپنی منزل کے قریب تر ہوگی۔

بیان میں فلسطینی اتھارٹی سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وہ ایسی کوئی قرارداد پیش نہ کرے جس میں فلسطینیوں کے دیرینہ مطالبات میں سے کوئی ایک مطالبہ ترک کیا گیا ہو۔ فلسطینی قوم کے دیرینہ مطالبات میں سنہ 1948ء میں قیام اسرائیل کے بعد سے اب تک بے گھر کیے گئے لاکھوں فلسطینیوں کی دوبارہ ان کے علاقوں میں آباد کاری، ایک ایسی آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام جس میں بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت قرار دیا جائے اور اسرائیلی جیلوں میں قید تمام فلسطینی اسیران کو رہا کیا جائے۔

بیت المقدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ مسجد اقصیٰ کے تقدس کو قائم رکھنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ بیان میں  بیت المقدس میں اور فلسطین کے دوسرے شہروں میں یہودی توسیع پسندی کی شدید مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ فلسطین میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی آباد کاری کا سلسلہ بند کرانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

بیان میں فلسطینی سیاسی جماعتوں کے درمیان قومی مفاہمت کا عمل آگے بڑھانے کی حمایت کے ساتھ اس میں مزید پیش رفت کا مطالبہ کیا گیا۔ فلسطینی تارکین وطن کا کہنا تھا کہ وہ تمام فلسطینی قومی دھاروں کو ایک صف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔

بیان میں جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی کی فوری اور بلا تاخیر تعمیر نو کا عمل شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ تارکین وطن نے آٹھ سال سے اسرائیل کی مسلط کردہ معاشی پابندیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے غزہ کی ناکہ بندی کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.