ترکی کی ایک عدالت میں اسرائیل کے تین سابق فوجی عہدیداروں کے خلاف فرد جرم پیش کی گئی ہے، جس میں ان فوجی افسران کو اکتیس مئی 2010ء کو کھلے سمندر میں ترکی کے امدادی جہاز پرحملے میں براہ راست ملوث بتایا گیا ہے۔
یاد رہے کہ یہ امدادی جہاز فلسطینی محصور شہرغزہ کی پٹی کے شہریوں کے لیے امدادی سامان کی کھیپ لے جانے والے ایک بحری جہازوں کے قافلے میں شامل تھا، جس پراسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے شب خون مار کر ترکی کے نو رضاکاروں کو شہید کردیا تھا۔ حملے میں پچاس افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے چھ سو سے زائد انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرکے تمام امدادی جہازوں کو یرغمال بنانے کے بعد ان کا سامان لوٹ لیا تھا۔ ترکی نے اس حملے میں ملوث سابق فوجی افسران کے خلاف ایک فرد جرم تیار کی ہے۔ فرد جرم میں اسرائیلی فوج کے سابق چیف جنرل گابی اشکنزئی، بحریہ کےسربراہ الیعیزر ماروم اور سابق ملٹری انٹیلی جنس چیف عاموس یدلین کو فریق بنایا گیا ہے۔ فرد جرم میں تینوں سابق فوجی افسران کی گرفتاری کی سفارش کرتے ہوئے انہیں نہتے ترک رضاکاروں کو گولیاں مار کر شہید کرانے کے الزام میں دس مرتبہ عمر قید کی سزا کا کی سفارش کی گئی ہے۔ سنہ دو ہزار دس کو فریڈم فلوٹیلا پر صہیونی فوج کے حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات ابھی تک کشیدہ چلے آ رہے ہیں۔ ترکی نے حملے میں ملوث سابق فوجی افسران کو گرفتار کر کے انقرہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

