خیال رہے کہ ال رہے کہ 31 مئی 2010 ء کو عالمی امدادی قافلے میں شامل ترکی کے بحری جہاز مرمرہ پر اسرائیلی فوجی کمانڈوز نے اس وقت حملہ کردیا تھا جب امدادی جہاز عالمی سمندری حدود میں غزہ کی جانب بڑھ رہے تھے۔ اسرائیلی کمانڈوز کے حملے کے نتیجے میں ترکی کے نو امدادی کارکن شہید اور 50 زخمی ہوگئے تھے۔ قابض فوج نے تمام جہازوں کا عملہ اور چھ سو امدادی کارکن یرغمال بنانے کے بعد امدادی سامان لوٹ لیا تھا۔ ترکی نے اسرائیلی فوجی جارحیت کے رد عمل میں چار اسرائیلی فوجی عہدیداروں کو اس میں ملوث قرار دے کرانہیں اشتہاری قرار دیا تھا۔
اخبار یدیعوت احرونوت کی رپورٹ کے مطابق ملٹری انٹیلی جنس کے سابق چیف جنرل عاموس یڈلین نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہیں برطانیہ کی ایک یونیورسٹی میں لیکچر دینے جانا تھا۔ جب وہ ہھیترو ہوائی اڈے پر پہنچے تو برطانوی امی گریشن کے ایک عہدیدار سے استفسار کیا کہ کیا مجھے گرفتار یا واپس تو نہیں کردیا جائے گا۔ اس پر انہیں ہوائی اڈے پر ایک گھنٹے انتظار کرنےکو کہا گیا۔ وہ ایک گھنٹے تک وہاں ہوائی اڈے پر انتظار کرتے رہے بعد ازاں انہیں ایک عہدیدار نے کہا کہ انہیں لیکچر دینے کے لیے تقریب میں شرکت کی اجازت ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق ترکی نے فریڈم فلوٹیلا پرحملے میں ملوث چار اسرائیلی فوجی عہدیداروں کو اشتہاری قرار دے کر ان کی گرفتار کے وارنٹ جاری کر رکھے ہیں۔ ان میں اس وقت کے ملٹری چیف جنرل عاموس یڈلین، سابق صہیونی آرمی چیف جنرل گابی اشکنزئی، نیول چیف جنرل الیعزر ماروم اور فضائی انٹیلی جنس کے سربراہ جنرل افیچائی لیوی کے نام شامل ہیں۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صہیونی سابق فوجی عہدیدار کو ہیتھرو ہوائی اڈے پر اتارے جانے کا واقعہ کوئی تین ہفتے قبل پیش آیا تھا۔ اسی نوعیت کے ایک دوسرے کیس میں انسانی حقوق کے گروپوں کی اپیل پراسرائیل انٹیلی جنس ایجنسی "شاباک” کے سابق چیف جنرل آفی دیختر اور سابق وزیر ڈان مریڈور کو گرفتار کرانے کی کوشش کی تھی تاہم اسرآئیلی حکومت کی فوری مداخلت کے باعث انہیں اسپین میں گرفتاری سے بچالیا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے گروپوں نے شاباک کے سابق چیف اور سابق وزیر کےخلاف سنہ 2002 ء میں غزہ کی پٹی میں اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے رہ نما صلاح شہادہ کی قاتلانہ حملے میں شہادت کا قصور وار قرار دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی اس جارحیت میں نو بچوں سمیت 15 فلسطینی شہید ہوگئے تھے۔
