• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

تحریک انتفاضہ کی گنجائش ہے اور نہ اسرائیل پر گولی چلانے کی اجازت دیں گے: عباس

بدھ 01-10-2014
in فلسطین
0
plf firingnotallowed
0
SHARES
2
VIEWS

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہاہے کہ صہیونی ریاست کے خلاف مسلح تحریک انتفاضہ کی کوئی گنجائش نہیں اور نہ یہودیوں‌ پر ایک گولی چلانے کی بھی اجازت ہو گی۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق رام اللہ میں ‌فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کواٹر میں صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ابو مازن کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل فلسطین سے اسرائیل کا ناجائز قبضہ ختم کرانے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے ہمارے پاس عالمی عدالت انصاف کے پاس جانے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہا ہے۔ اس لیے میں نے یہ عہد کیا ہے کہ اسرائیل کے جنگی جرائم بے نقاب کرنے اور آزاد فلسطینی ریاست کے لیے پرامن جدو جہد کی خاطر عالمی فوج داری عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔

صدر محمود عباس نے کہا کہ ہم نے اسرائیل کو سنہ 1967ء سے پہلے والی پوزیشن پر لے جانے کی کوشش کی اور اس کام کا آغاز سلامتی کونسل کے ذریعے کیا۔ اس مقصد کے لیے ہم نے دو سے تین سال کی  ڈیڈ لائن بھی دی۔ یہ کوئی حتمی مدت نہیں۔ اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ ہم دوبارہ مذاکرات شروع کر سکتے ہیں مگر اب ہر بات ایک وقت مقررہ کے ساتھ خاص ہو گی۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے لیے ہمیں تین ہفتے کا وقت درکار ہے۔ قرارداد پر کارروائی کے لیے ہمیں کونسل کے نو مستقل ممبران کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کرنے کے لیے نو ارکان کی حمایت مل گئی تو اس کے بعد قرارداد کو امریکا کی جانب سے اسرائیل کے حق میں ویٹو کیے جانے کا کوئی خوف نہیں ہے۔ اگر امریکا نے ویٹو کے ذریعے ہماری مساعی کو سبوتاژ کیا تو ہمارے پاس عالمی فوج داری عدالت سے رجوع کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں بچے گا۔

ایک سوال کے جواب میں محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی شعبے میں تعاون بدستور جاری رکھے گی۔ ہم اسرائیل کے خلاف کسی قسم کی مسلح تحریک انتفاضہ حتیٰ کہ ایک گولی چلانے کی اجازت بھی نہیں ‌دیں‌ گے۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کے امریکا کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہیں۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں امریکی حکام کی تقاریر فلسطینیوں‌ سے مذاق کے مترادف تھیں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.