فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے اپنے حقوق کے لیے احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں پر کتوں کے ذریعے حملے کرنے کی عالمی سطح پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں جمعہ کے روز نابلس میں اس شرمناک واقعے کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے واقعے کے مرتکب اسرائیلی فوجیوں کےخلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم”عالمی یکجہتی فاؤنڈیشن” کی جانب سے جاری ایک بیان میں اس واقعے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کی بدترین مثال سے تعبیر کیا ہے۔
تنظیم کے ایک مرکزی رکن اور تجزیہ نگار احمد البیتاوی کا کہنا ہے کہ جنگی تربیت یافتہ کتوں کے ذریعے پرامن مظاہرین کو کچلنے کے لیے ان پر تشدد کرنا ریاستی جبر کی بدترین مثال ہے۔ نہتے شہریوں پر کتوں کے ذریعے مظالم ڈھانا دنیا کے کسی قانون اور ضابطے میں جائز نہیں اگرکوئی ریاست یا گروہ اس طرح کی گھناؤنی حرکت کا مرکتب پایا جائے تواس کےخلاف عالمی قانون کے تحت کارروائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام قوانین میں انسان میں انسانی جان کی حرمت اور اس کے تقدس کا حکم دیا گیا ہے لیکن اسرائیلی فوج دانستہ طور پر انسانیت کی تذلیل اور اس کی تحریک کی مرتکب ہو رہی ہے۔
اپنے ایک بیان میں احمد البیتاوی کا کہنا تھا کہ ریاست تشدد کی جو گھناؤنی مثالیں قابض اسرائیلی فوج کے ہاتھوں وقوع پذیر ہو رہی ہیں وہ عالمی قوانین اور جنیوا کنونشن کے تحت طے پائے ضابطوں کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔
ادھر فلسطین، مصر اور عرب ممالک کی دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی نابلس کے گھناؤنے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کا اصل مکروہ چہرہ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ قابض اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز مقبوضہ نابلس میں فلسطینیوں کے ایک پرامن احتجاجی مظاہرے کے دوران مظاہرین پر کتے چھوڑ دیے تھے جنہوں نے نہتے شہریوں پرحملے کیے اور انہیں لہولہان کر دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی اس شرمناک اور انسانیت کی تذلیل پرمبنی حرمت پرپوری اسلامی دنیا کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

