اسرائیل میں یہودیوں کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم”بتسلیم” نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک بے گناہ فلسطینی کے قتل میں ملوث اسرائیلی ملٹری پولیس کے ایک اہلکار کو فلسطینی کے قتل سے بری کر دیا ہے۔
صہیونی فوجی عدالت کا کہنا کہ فوجی افسر چاحار مور پر ایک فلسطینی کے قتل کے تمام الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں جس کی بنیاد پر اسے اس مقدمے سے بری قرار دیا جا رہا ہے۔
یہودی انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے اس نے مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے ایک ایک بتیس سالہ شہری فراس قصقص کے قتل میں ملوث ایک فوجی اہلکار کے خلاف درخواست دی تھی، تاہم اسکی جانب سے دی گئی درخواست کے کئی ماہ گذر جانے کے بعد بھی صہیونی پراسیکیوٹر جنرل نے درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔
"بتسلیم”کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی شہری کے قتل میں ملوث اسرائیلی فوج کو ان کی جانب سے باربار دی جانے والی درخواستوں کے بعد طلب کیا تھا تاہم اب عدالت نے مختلف سماعتوں کے بعد اسے اس مقدمہ سے بری قرار دیا ہے۔
یہودی انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہے کہ اس کے پاس اسرائیلی فوجی چاحامور کے فلسطینی شہری فراس کے قتل کے پورے اور ٹھوس ثبوت موجو دہیں۔ اسرائیلی فوجی نے فراس کو سنہ 2007ء میں بیت لحم میں اس وقت اندھا دھند گولیوں کا نشانہ بنایا جب وہ راستے میں جا رہا تھا، اس کے پاس نہ تو اسلحہ تھا اور نہ ہی کوئی دوسری خطرناک چیز تھی جو یہودی فوجی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی تھی۔ اس کے علاوہ فلسطینی شہری صہیونی فوجی سے کئی سو میٹر کے فاصلے پر تھا، جہاں اس پر گولیاں چلانے کا جوئی جواز نہیں تھا۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بیت لحم کا فلسطینی رہائشی اپنے دو ساتھیوں کے ہمراہ رام اللہ کے علاقے طیرہ میں جا رہا تھا کہ انہیں تین اسرائیلی فوجیوں نے دیکھا۔ وہ تینوں ان فوجیوں سے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر تھے اور تینوں غیر مسلح تھے۔ اس دوران ایک فوجی نے ان میں سےایک کو تاک کر گولی ماری جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا، جسے دوسرے ساتھیوں نے اٹھایا اور اسپتال منقتل کر دیا۔ دونوں فلسطینی شہریوں نے گولی مارنے والے صہیونی فوجی کی بھی شناخت کر لی تھی، جنہوں نے بعد ازاں اپنی گواہی بھی ریکارڈ کرائی ۔ اسپتال لے جانے کے بعد فراس قصقص دم توڑ گیا تھا۔

