اسلامی تحریک مزاحمت ۔ حماس کے ترجمان ڈاکٹر سامی ابو زھری کا کہنا ہے کہ بیر زیت یونیورسٹی کی طلبہ یونینز کے انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوگیا کہ مغربی کنارے میں حماس کی جڑیں اب بھی مضبوط ہیں اور یہاں سے اس کے خاتمے کی تمام کوششں بری طرح ناکام ہو چکی ہیں۔
بدھ کی شام ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سامی ابوزھری کا کہنا تھا کہ اسلامک بلاک کا 20 نشستیں حاصل کرلینا ایک شاندار کامیابی ہے، جس سے ان لوگوں کی باتیں بھی غلط ثابت ہوگئی ہیں کو کہتے تھے کہ حماس کی مقبولیت مغربی کنارے میں کم ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عام سیاسی انتخابات میں دراصل یہ مشکلات درپیش ہیں کہ یہاں پر ووٹرز کو آزادی حاصل نہیں اور حماس کو انتخابات کی تیاری کا موقع نہیں دیا جارہا ۔
ڈاکٹر سامی ابو زھری نے یونیورسٹی کے انتخابات میں حماس کے اسلامک بلاک کی کامیابی پر اسے مبارک باد پیش کی اور اسے حاصل ہونے والی نشستوں کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کے قریب اور سخت سکیورٹی اقدامات کے باوجود آنے والے نتائج حماس کے لیے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوں گے۔
اس موقع پر حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے بھی ’’مرکز اطلاعات فلسطین‘‘ کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی انتخابات کے ان نتائج کےبعد حماس کے ساتھ ساتھ مزاحمت کی حمایت کرنے والی ہر جماعت کو بڑی امید ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان نتائج نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو یکسر مسترد کردیا ہے اور اب ثابت ہو گیا کہ مزاحمت کا اختیار استعمال کرنا ہی فلسطینی قوم کے دفاع کا واحد ذریعہ ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
