فلسطینی مظاہرین اورعوامی مزاحمتی کمیٹیوں کے رضاکاروں نے مغربی بیت لحم کے گاؤں الجبعہ اور الخلیل شہر کے شمالی قصبے صوریف کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا باعث بڑا آہنی دروازہ توڑ دیا۔ یاد رہے دروازے کا شمار علاقے کے بڑے گیٹس میں ہوتا ہے۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے بیت لحم اور الخلیل کو تقسیم کرنے والے آہنی گیٹ کا ہٹایا جانا دراصل ایسے ہی تیرہ دوسرے گیٹس کو گرانے کی مہم کا حصہ ہیں۔ ایسے تمام گیٹس جنوبی مغربی کنارے کی متعدد بستیوں اور شہروں کو دو حصوں میں تقسیم کا باعث چلے آ رہے ہیں۔
دروازہ ہٹانے کی کارروائی کی اطلاع ملنے پر اسرائیلی سیکیورٹی حکام جائے حادثہ کی جانب لپکے اور کسی وارننگ کے بغیر مظاہرین اور گیٹ ہٹانے والوں پر آنسو گیس کے شیل فائر کرنا شروع کر دیئے۔ قابض حکام کے اچانک حملے پر مظاہرین میں افراتفری پھیل گئی جس کے بعد وہ گیس کے مضر اثرات سے بچنے کی خاطر مختلف گلیوں اور محفوظ مقامات میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے، تاہم آخری خبریں آنے تک کسی گرفتاری کی اطلاع نہیں ملی تھی۔
ایک الگ پیش رفت میں قابض حکام نے باب الشمس قصبے سے پانچ رضاکاروں کو حراست میں لے لیا۔ نیز القدس سے باب الشمس جانے کی کوشش کرنے والے افراد کو گھیرے میں لے لیا گیا۔ مقامی ذرائع کے مطابق یہ افراد اس جگہ اپنے احتجاج کو جاری رکھنا چاہتے تھے کہ جہاں اسرائیل یہودی بستیاں قائم کرنا چاہتا ہے۔
بشکریہ:مرکز اطلاعات فلسطین
