مقبوضہ مغربی کنارے کے تاریخی شہر اور حضرت عیسی علیہ السلام کی جائے پیدائش بیت لحم کے ہوٹلوں میں یہودیوں کی ‘عید الغفران’ کے موقع پر رقص و سرود کی محفلیں منتعد کرنے کے اعلانات کے بعد ملک کے اندر اور باہر فلسطینیوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔
یاد رہے کہ یہودیوں نے اس سال اپنی نام نہاد عید کے موقع پر قبلہ اول کے صحن پر حملے کا پروگرام بھی بنا رکھا ہے۔ سماجی رابطے کے فورمز پر فلسطینی بڑی تعداد میں سوال کر رہے ہیں کہ مسلمانوں کے قبلہ اول کی توہین اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر تسلط علاقے میں رقص و سرود کی مخافل پر ‘فتح’ کی قیادت کیوں خاموش ہے؟
"عید الغفران” کے موقع پر یہودی آبادکاروں نے مغربی کنارے کے طول و عرض میں محافل موسیقی، ناچ گانے، فوڈ فیسٹولز اور ہوٹلوں میں شب بسری جیسے پروگرامات تربیت دے رکھے ہیں۔ ان میں شرکت کے لئے یہودیوں کو دعوت دینے کی خاطر علاقے میں کاروباری مراکز اور پبلک مقامات پر بڑے بڑے اشتہارات اور بینرز لگائے جا رہے ہیں۔
فلسطینی شہری مغربی کنارے کی حکمران جماعت ‘فتح’ کی خاموشی بلکہ ان خرافات کو سیاحت کے نام پر ہر طرح کی حمایت اور تعاون فراہم کرنے کے اعلانات پر سخت نالاں ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
