اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیت لحم کے جنوب میں غوش عتصیون چوک میں ایک فلسطینی نوجوان کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ مبینہ طور پر یہودی فوجیوں پر چاقو سے حملوں کے لیے ان کی ریکی کررہا تھا۔ فائرنگ سے فلسطینی نوجوان شدید زخمی ہوا جو کئی گھنٹے تک موت وحیات کی کشمکش میں سڑک پر پڑا رہا۔ اس دوران فلسطینی شہریوں اور امدادی کارکنوں نے اس کے قریب جانے اور اٹھانے کی کوشش کی مگر قابض فوجیوں نے انہیں اس کے قریب جانے سے روک دیا جس کے نتیجے میں وہ جام شہادت نوش کرگیا۔
فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں شہید فلسطینی نوجوان کی شناخت محمد محمود احمد ابو فنونہ کے نام سے کی ہے جس کی عمر 21 سال اور آبائی تعلق الخلیل شہر سے بتایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق محمود کی شہادت کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے الخلیل شہر میں شہید کے گھرپرچھاپہ مار کر اس کے بہن بھائیوں اور دیگر اہل خانہ سے بھی تفتیش کی۔
اسی طرح فلسطین کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے کہا ہے کہ بارہ فلسطینی غرب اردن اور غزہ میں صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے زخمی بھی ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوجیوں نے غوش عتصیون چوک سے تین صحافیوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ گرفتار کیے گئے صحافیوں میں سے دو کی شناخت ھشام ابو شقرہ اور عمر زواھرہ کے نام سے کی گئی ہے۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اکتوبر دوہزار پندرہ سے جاری تحریک انتفاضہ قدس کے آغاز سے اب تک دوسو سے زیادہ فلسطینی شہری شہید ہوچکے ہیں۔
