بیت المقدس کے عینی شاہدین کے حوالے سے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے بتایا کہ نیر برکات نے منگل کے روز اپنے کئی مصاحبین کے ہمراہ پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں قبلہ اول میں داخل ہو کراس کی بے حرمتی کی۔ مسٹر برکات اوردیگر شدت پسند یہودی مسجد اقصیٰ کے مراکشی دروازے سے داخل ہوئے اور دیر تک اندر گھومتے رہے۔ اس دوران مسجد اقصیٰ کے تمام داخلی اور خارجی راستے بند کر دیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ نیر برکات نے مسجد اقصیٰ میں داخلے سے قبل صہیونی کنیسٹ کے خصوصی اجلاس میں شرکت کی تھی۔ یہ اجلاس مسجد اقصیٰ کی اردن کو دی گئی نگرانی کا حق سلب کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔ اس اجلاس کے کچھ ہی دیر بعد نیر برکات سیدھے قبلہ اول میں آ داخل ہوئے۔
واضح رہے کہ نیربرکات پچھلے کئی سال سے بیت المقدس کے میئر کے عہدے پر فائز چلا آ رہا ہے۔ اس کی پہچان بھی ایک انتہا پسند یہودی لیڈر کے طور پر کی جاتی ہے۔ جب سے اس نے میئر کے عہدہ سنھبالا ہے اس کے بعد سے بیت المقدس میں یہودی کالونیوں کی تعمیر و توسیع میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
