تصویری مجموعے کی تقریب رو نمائی کے بعد ترک خبر رساں ایجنسی ‘اناطولیہ’ سے بات کرتے ہوئے محمد غوشہ نے کہا کہ انہوں نے بیت المقدس کی تاریخی تعمیرات کی تصاویر پر مبنی ایک ضخیم مجموعہ مرتب کیا ہے جس میں بیت المقدس کی تاریخی اور دینی حیثیت کو اجاگر کرنے کی ایک نئی راہ ہموارہوئی ہے۔
فلسطینی اور اردنی شہریت رکھنے والے محمد غوشہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بیت المقدس کے ایک لاکھ 45 ہزار مربع میٹر علاقے کی تاریخی اور نایاب تصاویر جمع کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تاریخی تصاویر میں نہ صرف ماضی میں بیت المقدس کی تعمیرو مرمت کے مختلف ادوار کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہودی توسیع پسندی کے بعد شہر کے نقشے میں لائی گئی جعلی تبدیلیوں کا بھی صاف پتا چلتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بیت المقدس کی جو تصاویر انہوں نے جمع کی ہیں ان میں خلیفہ دوم سید فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے دور کے بیت المقدس کی تصاویر بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد مختلف مسلمان حکومتوں کے ادوار کے بیت المقدس کے جھلکیاں بھی اس مجموعے کو چار چاند لگا رہی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں تصاویری مجموعے کے مولف نے بتایا کہ بیت المقدس کی تصاویر کا یہ مجموعہ اٹلی کے دارالحکومت روم سے شایع کیا گیا ہے۔ بڑے سائز کے 1000 ہزار صفحات پر مشتمل مجموعے میں چار ہزار سے زاید تصاویر حاصل کی گئی ہیں جن کے حصول میں کئی سال کا عرصہ لگا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ تصویری مجموعے میں بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، تاریخی، ثقافتی عمارات، خاکے، اسلامی پینٹنگ سے مدد لی گئی ہے۔ مصنف نے تصویری مجموعے کے ساتھ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے اہم مقامات کی تاریخ اور ان کی دینی اہمیت پربھی روشنی ڈالی ہے، ان میں مسجد اقصیٰ کے منبر، سات دروازے، مراکشی دروازہ، باب السلسلہ، دیوار القبلی، سنگ مسجد اقصیٰ، صحن قبۃ الصخرہ اور باب شرف الانبیا خاص طورپر شامل ہیں۔
موس وعہ میں 1550 ء میں عثمانی خلیفہ سلطان سلیمان القانونی کے دور کی تعمیر کی گئی جامع مسجد، چار تاریخی مدارس، ہوٹل، اسپتال، حمام اور مینار بھی تصاویر میں شامل ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
