مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الشیخ عطون نے کہا کہ میری بیت المقدس میں کئی غیرملکی ارکان پارلیمنٹ اور سفیروں سے بھی ملاقات ہوئی۔ سب نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بیت المقدس کے کسی بھی باشندی کے شہریت منسوخ کرنا اور اس وجہ سے اسے شہر بدر کرنا کہ وہ اسرائیل کی وفادار کا عہد نہیں کرتا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کسی بھی شہری کو اس کے آبائی علاقے میں رہنے کا حق دیتا ہے۔ ہم بیت المقدس ہی میں پیدا ہوئے۔ یہ ہمارا جدی پشتی شہر ہے۔ ہم یہاں پر اسرائیل کی غیرقانونی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس پر سنہ 1967 ء کی جنگ میں طاقت کے ذریعے غیرقانونی اور ناجائز قبضہ کیا۔ ہم اس قبضے کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ہم بیت المقدس میں اپنے حق سکونت کے حصول کے لیے عالمی اداروں بھی جائیں گے۔
فلسطینی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ بیت المقدس سے منتخب ارکان اسمبلی کی شہریت منسوخ کرنا نہایت خطرناک طرز عمل ہے۔ یہ اقدام دراصل ان ہزاروں فلسطینی شہریوں کی بیت المقدس کی شہریت ختم کرنے کی سازش کا نقطہ آغاز ہے جنہیں اسرائیل مختلف حیلوں اور بہانوں سے بیت المقدس سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیل کی ایک عدالت نے بیت المقدس سے نکالے گئے تین فلسطینی ارکان قانون ساز کونسل اور ایک سابق وزیر کے مقدمہ کی سماعت کی۔ ان چاروں کو قابض صہیونی حکومت نے سنہ 2006 ء میں فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی ٹکٹ پرانتخابات میں حصہ لینے کی پاداش میں بیت المقدس سے نکال باہر کرنئے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی شہر بدری کے فیصلے کو ایک عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ صہیونی عدالتیں بھی مسلسل ٹال مٹول سے کام لے کر معاملے کو مزید الجھا رہی ہیں۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
