• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

بیت المقدس کی شہریت سلب کرنا صہیونی ریاست کی غنڈہ گردی ہے:احمد عطون

بدھ 06-05-2015
in فلسطین
0
plf deprive-of-citizenship
0
SHARES
0
VIEWS

اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس سے شہر بدر کیے گئے  فلسطینی رکن قانون ساز کونسل احمد عطون نے کہا ہے کہ عدالت نے ایک بارپھران کی شہربدری کے خلاف دی گئی درخواست پر فیصلہ ملتوی کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا مقدمہ پچھلے نو سال سے اسرائیل عدالتوں میں زیرسماعت ہے۔ اسرائیلی عدالتیں ہمیں انصاف دینے کے بجائے مسلسل ٹال مٹول سےکام لیتی ہیں۔ ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ اسرائیل کے سامنے جھک جائیں اور صہیونی ریاست کی اطاعت قبول کرلیں، ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہماری تمام وفاداریاں صرف اللہ کے لیے ہیں۔ اس کے بعد ہم فلسطینی قوم اور وطن عزیز کے وفادار ہیں۔ اسرائیل کی وفادری کسی صورت نہیں کریں گے۔

مرکزاطلاعات فلسطین سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الشیخ عطون نے کہا کہ میری بیت المقدس میں کئی غیرملکی ارکان پارلیمنٹ اور سفیروں سے بھی ملاقات ہوئی۔ سب نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بیت المقدس کے کسی بھی باشندی کے شہریت منسوخ کرنا  اور اس وجہ سے اسے شہر بدر کرنا کہ وہ اسرائیل کی وفادار کا عہد نہیں کرتا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی قانون کسی بھی شہری کو اس کے آبائی علاقے میں رہنے کا حق دیتا ہے۔ ہم بیت المقدس ہی میں پیدا ہوئے۔ یہ ہمارا جدی پشتی شہر ہے۔ ہم یہاں پر اسرائیل کی غیرقانونی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اسرائیل نے بیت المقدس پر سنہ 1967 ء کی جنگ میں طاقت کے ذریعے غیرقانونی اور ناجائز قبضہ کیا۔ ہم اس قبضے کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ہم بیت المقدس میں اپنے حق سکونت کے حصول کے لیے عالمی اداروں بھی جائیں گے۔

فلسطینی رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ بیت المقدس سے منتخب ارکان اسمبلی کی شہریت منسوخ کرنا نہایت خطرناک طرز عمل ہے۔ یہ اقدام دراصل ان ہزاروں فلسطینی شہریوں کی بیت المقدس کی شہریت ختم کرنے کی سازش کا نقطہ آغاز ہے جنہیں اسرائیل مختلف حیلوں اور بہانوں سے بیت المقدس سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیل کی ایک عدالت نے بیت المقدس سے نکالے گئے تین فلسطینی ارکان قانون ساز کونسل اور ایک سابق وزیر کے مقدمہ کی سماعت کی۔ ان چاروں کو قابض صہیونی حکومت نے سنہ 2006 ء میں فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت ’’حماس‘‘ کی ٹکٹ پرانتخابات میں حصہ لینے کی پاداش میں بیت المقدس سے نکال باہر کرنئے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے اپنی شہر بدری کے فیصلے کو ایک عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ صہیونی عدالتیں بھی مسلسل ٹال مٹول سے کام لے کر معاملے کو مزید الجھا رہی ہیں۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.