فلسطین میں علماء کی سپریم کونسل کے چیئرمین اور ممتاز عالم دین علامہ الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ بیت المقدس کی املاک اور اراضی یہودی اداروں کو فروخت کرنا یا اس سلسلے میں کسی قسم کی سودے بازی کرنا اسلامی شریعت کی رو سے درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حال ہی میں ذائع ابلاغ میں یہ خبریں آئی ہیں کہ بیت المقدس میں سلوان کے مقام پر کچھ فلسطینیوں نے اپنی جائیدادیں یہودی تنظیموں کو فروخت کی ہیں یا انہیں کرائے پر دیا گیا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو یہ دین اسلام کی شرعی تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بیت المقدس میں جائیدادوں کی خریدو فروخت بالخصوص یہودیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین سے قبل ہمیں علماء کے سابقہ فتاویٰ کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں شیطان صفت یہودی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے فلسطینیوں سے ان کی املاک حاصل کرکے انہیں اسرائیلی مفادات اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اسلامی شریعت میں دشمن ریاست یا اس کے کسی ایجنٹ کے ساتھ اس نوعیت کے کسی لین دین کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ عکرمہ صبری نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ بیت المقدس میں جائیدادوں کی خریدو فروخت بالخصوص یہودیوں کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین سے قبل ہمیں علماء کے سابقہ فتاویٰ کی جانب رجوع کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی شک نہیں شیطان صفت یہودی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے فلسطینیوں سے ان کی املاک حاصل کرکے انہیں اسرائیلی مفادات اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اسلامی شریعت میں دشمن ریاست یا اس کے کسی ایجنٹ کے ساتھ اس نوعیت کے کسی لین دین کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیت المقدس کی جائیدادوں کو یہودیوں کا مالک بنانا یا انہیں کرائے اور لیز پر دینا اللہ اور اس کے رسول اور پوری مسلم امہ کے ساتھ خیانت کے مترادف ہے۔ الشیخ صبری نے بیت المقدس کی املاک یہودیوں کو فروخت کرنے کی ممانعت کے فتاویٰ کا بھی حوالہ دیا جن میں واضح الفاظ میں کہا گیا ہے کہ بیت المقدس کی اراضی اور اس کی تمام املاک صرف مسلمانوں کی ملکیت ہیں جن پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں ہے اور نہ ہی شرعا یہودیوں کو اراضی فروخت کرنا جائز ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
