وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کے ڈائریکٹر جواد صیام نے "مرکز اطلاعات فلسطین” سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک سازش کے تحت وادی حلوہ کالونی اور سلوان کالونی کو تاریخی اعتبار سے یہودی مراکز ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ اس ذریعے سے مسجد اقصیٰ پر قبضے کی راہ ہموار کی جا سکے۔
صیام کا کہنا ہے کہ صہیونی انتہا پسند تنظیمیں اور بیت المقدس کو یہودیانے میں سرگرم گروپ جعلی تاریخی نقشوں سے یہ ثابت کر رہے ہیں کہ سلوان اور وادی حلوہ کالونیاں کئی ہزار سال قبل یہودیوں کی بستیاں رہی ہیں۔ یہ تمام جعلی اور جھوٹ پرمبنی دستاویزات قبلہ اول پرمستقل قبضے کی راہ ہموار کرنے کی ایک گھائونی صہیونی سازش ہیں۔جنوبی بیت المقدس میں سلوان اور وادی حلوہ کے مقامات کسی دور میں بھی یہودیوں کے مراکز نہیں رہے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بیت المقدس میں یہودی توسیع پسندی کے لیے سرگرم تنظیموں "العاد” اور "عطیرات کوھنیم” نے حال ہی میں جعلی دستاویزات تیار کی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 3000 سال قبل سلوان یہودیوں کی ایک کالونی تھی جہاں صرف یہودی مذہب کے پیروکار رہائش پذیر تھے۔ انہوں نے یہودی تنظیموں کی دستاویزات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ سلوان کے قبصے کے معلوم تاریخ 5000 سال پرانی ہے جس میں کہیں بھی یہودیوں کی موجودگی کا پتہ نہیں چلتا ہے۔
جواد صیام کا کہنا تھا کہ جب سے صہیونی ریاست نے بیت المقدس پر فوجی تسلط جمایا ہے تب سے جنوبی مسجد اقصیٰ کا یہ قصبہ اسرائیلی توسیع پسندی کا ہدف ہے۔ یہاں پر نام نہاد یہودی باقیات کی تلاش کے لیے زیر زمین سرنگوں کا ایک جال بچھا دیا گای ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ بڑی تعداد میں یہاں یہودیوں کو لا کر بسانے کی سازش کی جا رہی ہے تاکہ آبادیاتی تبدیلی کے ذریعے سلوان کو یہودی علاقہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ سلوان، وادی حلوہ، الشیخ جراح اور عیسویہ مسجد اقصیٰ سے متصل وہ کالونیاں ہیں جہاں کسی بھی دور میں یہودیوں کی آبادی کا کوئی سراغ نہیں ملتا بلکہ یہ مقامات مسجد اقصیٰ کے وقف شدہ مقامات میں شامل ہیں۔ جہاں تک یہودی تنظیم عطریت کوھنیم کے دعوے کا تعلق ہے تو وہ قطعی بے بنیاد ہے۔ جعلی دستاویزات کے ذریعے اسے "شہر داود” ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ کے گردو پیش کی تمام فلسطینی کالونیوں کو یہودیانے کا آغاز سنہ1967ء کے بعد سے ہوا ہے جس میں العاد اور عطریت کوھنیمن جیسے انتہا پسند یہودی گروپوں کی سازش کار فرما تھی۔
انہوں نے بتایا کہ بیت المقدس کی اس قدیم فلسطینی کالونی کو صہیونی حکومت نے تقسیم کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس میں اب تک 29 رہائشی پلازے تعمیر کیے جا چکے ہیں جن میں سیکڑں کی تعداد میں یہودی آباد کیے گئے ہیں۔ صہیونی حکومت نے ایک ساززش کے تحت راس العامود کو سلوان سے الگ کردیا ہے۔ حالانکہ راس العامود سلوان کالونی کا حصہ ہے۔ اپنی مرضی کی تقسیم کی بعد یہاں پر ھار ھزیتم نامی ایک یہودی کالونی بنائی گئی ہے جو اس کالونی میں یہودیوں کی سب سے بڑی رہائشی کالونی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
