صہیونی حکومت کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کے مرکزی علاقے "الشیخ جراح” میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیاں حسب معمول جاری ہیں۔ دوسری جانب الشیخ جراح کی مقامی عرب آبادی نے صہیونی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف سخت احتجاج شروع کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار "کولھیر” کے مطابق کل جمعہ کے روز صہیونی وزارت داخلہ کے زیرانتظام تعمیرات کمیٹی کی جانب سے الشیخ جراح کے مقام پر ایک یہودی دینی مدرسے کے قیام کی منظوری دی گئی ہے۔ "اورسیمح” نامی اس یہودی اسکول کے لیے درخواست چند ہفتے قبل دی گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے الشیخ جراح میں یہودی توسیع پسندی کی سرگرمیوں کے دوران "کامبوس غلاسمان” کے نام سے ایک نو منزلہ پلازے کی تعمیر شروع کی گئی۔ اسی پلازے کے پہلو میں ایک یہودی مدرسے کی تعمیر شروع کی گئی ہے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق الشیخ جراح کے ایک سرکردہ یہودی ربی "سیمح” نے وزارت داخلہ اور صہیونی بلدیہ کو ایک مذہبی اسکول کے قیام کی درخواست دی تھی۔ یہودی ربی کا کہنا تھا کہ الشیخ جراح کے مقام پر خالی پلاٹ موجود ہیں جنہیں مذہبی اسکول کے لیے الاٹ کیا جاسکتا ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ صہیونی حکومت کی اجازت کے بعد ایک نو منزلہ عمارت کھڑی کی جا رہی ہے جس کا کچھ حصہ مذہبی مدرسے کے لیے استعمال کیا جائےگا۔ ان میں سے دو منزلیں زیر زمین تعمیر کی جائیں گی۔ مجموعی طور پر یہ عمارت 9615 مربع میٹر پر تعمیر کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب مقامی فلسطینی شہریوں نے الشیخ جراح کے مقام پر یہودی توسیع پسندی کی سخت مخالفت کرتے ہوئے تعمیرات روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی عرب آبادی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت بیت المقدس بالخصوص الشیخ جراح کو یہودیانے کی سازش کررہی ہے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
