• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home فلسطین

بیت المقدس کو’یہودیانے‘ کے صہیونی قوانین کے سنگین مضمرات

ہفتہ 28-03-2015
in فلسطین
0
plf bad-result
0
SHARES
3
VIEWS

فلسطین میں مسیحی اور اسلامی مقدس مقامات کی حفاظت اور دیکھ بحال کے لیے قائم ’’نصرت مقدسات‘‘ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس کو یہودیانے کے لیے ریاستی سطح پر چھ قوانین وضع کیے ہیں، جن کا مقصد بیت المقدس میں فلسطینیوں پرعرصہ حیات تنگ کرنا اور یہودی آباد کاروں کو ہرممکن سہولت فراہم کرنا ہے۔

مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر عیسیٰ کاکہنا ہے کہ صہیونی ریاست کی جانب سے بیت المقدس کو یہودیانے کے حوالے سے تیار کردہ قوانین کے سنگین مضمرات اور نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ صہیونی ریاست کی جانب سے وضع کردہ قوانین میں سے ایک مسجد اقصیٰ کی یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان زمانی اور مکانی اعتبار سے تقسیم سے متعلق ہے۔ اس قانون کی آڑ میں اسرائیل مسجد اقصیٰ پراپنی مکمل عمل داری چاہتا ہے تاکہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ کیفیت کو تبدیل کرکے اس میں یہودیوں کے لیے عبادت کی خاطر وقت اور جگہ کا تعین کیا جاسکے۔ مسجد اقصیٰ کے اس مخصوص حصے میں یہودی تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرسکیں اور اہم تہواروں کے موقع پر وہاں عبادت کے لیے جمع ہوسکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے قانون کے ذریعے مسجد اقصیٰ کی حفاظت کرنے والے فلسطینی’’مرابطین‘‘ اور خواتین کے گروپ’’مرابطات‘‘ کے قبلہ اول پر پابندی کی سازش تیار کی جا رہی ہے۔ نام نہاد سیکیورٹی وجوہات کی آڑ میں یہودی فوجیوں کو قبلہ اول کےدفاع کے لیے سرگرم فلسطینی کارکنوں کو گرفتار کرنے اورانہیں طاقت کے ذریعے روکنے کے اختیارات دیے جا رہے ہیں۔

یہودیوں کے قبلہ اول پردھاوے

بیت المقدس اور قبلہ اول کو یہودیانے کے حوالے سے اسرائیلی حکومت کی طرف سے وضع کردہ قوانین میں مسجد اقصیٰ پر غیرمعمولی چھاپوں، یہودی آباد کاروں کے دھاووں اور مقدس مقام کو فلسطینیوں کے لیے بند کیے جانے ک قانون بھی شامل ہے۔ اس قانون کے تحت پچھلے سال [ 2014 ء] کے دوران 13 ہزار 750 یہودیوں نے قبلہ اول پردھاوے بولے۔ ان میں 12 ہزار 770 یہودی آباد کار تھے جبکہ باقی 2070 اسرائیلی فوج، انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار اور پولیس حکام نے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی۔ پچھلے سال جولائی میں ایک کم عمر فلسطینی محمد ابو خضیر کے یہودی دہشت گردوں کے ہاتھوں اغواء اور اس کی بے رحمانہ شہادت کے واقعے کے بعد یہودی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ پر دھاوں میں بھی غیرمعمولی اضافہ ہوا۔ انتہا پسند یہودی ربی’’یہودا گلیک‘‘ پر فلسطینی شہری معتز حجازی کےقاتلانہ حملے کے بعد یہودی شرپسندوں نے قبلہ اول پر یلغار کواپنا معمول بنا لیا۔

ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے بتایا کہ سنہ 2014 ء کے دوران سنہ 1967 ء کے بعد پہلی مرتبہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں فلسطینیوں کے داخلے پرپابندی لگائی۔ ماہ رمضان میں فلسطینی خواتین کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پرصبح سات سے دن گیارہ بجے تک مکمل پابندی عاید رہی۔ اس دوران یہودی آباد کاروں کو مذہبی رسومات کی ادائی کے لیے قبلہ اول میں داخلے کی اجازت دی جاتی اور اسرائیلی سیکیورٹی فوسز انہیں فول پروف سیکیورٹی مہیا کرتے۔

بیت المقدس کی شہریت سلب کرنے کی سازش

فلسطینی تجزیہ نگار ڈاکٹر حنا عیسیٰ نے بتایا کہ بیت المقدس کے باشندوں کی شہریت ختم کرنے کے لیے اسرائیلی حکومت نے نام نہاد ’’دہشت گردی‘‘ کا بہانہ رچایا۔ اس بہانے کی آڑ میں ایک نیا قانون منظور کیا گیا۔ اس قانون کے تحت بیت المقدس کے باشندوں کی بیت المقدس کی شہریت سلب کرنے کی سازشیں کی جانیں لگیں۔ ڈاکٹر عیسی کا کہنا ہے کہ یہ قانون بیت المقدس کو یہودیانے کے حوالے سے وضع کردہ قوانین میں نہایت خطرناک ہے۔ بہ ظاہر اس قانون کو ’’دہشت گردی سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے‘‘ کا نام دیا گیا ہے مگر اس کا اصل ہدف بیت المقدس کے معصوم اور پرامن شہری ہیں۔ ان کی شہریت سلب کرنا، رہائش کے حقوق چھیننا، شہر سے بے دخل کرنا، غزہ یا مغربی کنارے کے شہروں میں منتقل کرنا جیسے اقدامات شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس قانون کی آڑ میں اسرائیلی حکومت سنہ 2007 ء سے 2013 ء تک 6060 فلسطینی باشندوں کی بیت المقدس کی شہریت منسوخ کرچکی ہے۔ اسرائیلی ریاست کا یہ قانون عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے کیونکہ کسی بھی متنازعہ علاقے کے سکونتی باشندوں کو وہاں سے نکالنے کا حق کسی ملک، حکومت یا ریاست کو حاصل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فلسطینی باشندوں کا حق شہریت سلب کرنے کے حوالے سے 2008 ء عروج پر رہا۔ اس ایک سال میں 4577 فلسطینیوں کی بیت المقدس کی شہریت سلب کی گئی۔ بیت المقدس میں نسلی تطہیرکے سنہ 2012 ء اور 2013 ء کے دوران 241 القدسی باشندوں کی شہریت منسوخ کرکے انہیں القدس بدر کیا گیا۔

ڈاکٹر عیسیٰ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے لیے یہ بات قطعی جائز نہیں کہ وہ بیت المقدس کے جدی پشتی باشندوں کی شہریت منسوخ کرکے انہیں ان کے آبائی شہر اور وطن سے نکال باہر کرے۔ انہوں نے بتایا کہ صہیونی ریاست نے ایسے ظالمانہ قوانین کی آڑ میں سنہ 1967 ء کے بعد سے اب تک بیت المقدس کے 1 لاکھ 40 ہزار باشندوں کی شہریت منسوخ کی۔ ان میں سے بڑی تعداد کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ مغربی کنارے یا غزہ کی پٹی کا سفر کرچکے تھے۔ سنہ 1967 ء میں غزہ کی پٹی کے ایک لاکھ 80 ہزار باشندوں کی شہریت منسوخ کی گئی جبکہ سنہ 2011 ء میں شہریت سے محروم کیے گئے فلسطینیوں کی تعداد پونے ملین کے قریب جا پہنچی ہے۔

معمولی واقعات پرکڑی سزائیں

صہیونی ریاست کی جانب سے بیت المقدس کے شہریوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لیے ان کی جانب سےمعمولی واقعات پربھی کڑی سزائیں دی جاتی رہیں ہیں۔ مثال کےطورپر یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں پر پتھر پھینکنے کے جرم پر 20 سال قید کی سزا منظور کی گئی ہے۔ فلسطینی باشندوں کو پرامن احتجاج تک کا حق نہیں دیا جاتا۔ صہیونی کنیسٹ نے ایک قانون منظور کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت کے پاس فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا قیدیوں کے تبادلے کا بھی اختیار نہیں ہے۔ صہیونی کنیسٹ اور کابینہ کی قانون ساز کمیٹی کی جانب سے ایسے ہی درجنوں سخت ترین قوانین وضع کررکھے ہیں۔

سخت ترین قوانین کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں پر ان قوانین کے نفاذ میں بھی کوئی رعایت نہیں برتی جاتی۔ حتیٰ کہ کم عمر فلسطینی بچوں کونہایت بے دردی سفاکیت سےحراست میں لیا جاتا اور ان سے جنگی مجرموں جیسا سلوک کیاجاتا ہے۔ صرف پچھلے ایک سال کے دوران صہیونی فوج نے بیت المقدس سے 700 کم عمر فلسطینی بچوں کو حراست میں لے کرانہیں جیلوں میں ہولناک تشدد کا نشانہ بنایا۔

 

بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین

ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.