قابض اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں یہودیت کے فروغ کے لیے بھاری رقوم مختص کرنے کا سلسلہ بدستور جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی ریڈیو نے انکشاف کیا ہے کہ صہیونی حکومت نے بیت المقدس میں یہودی معبد کی تعمیر کے لیے گذشتہ تین سال کی نسبت بجٹ میں دو گنا اضافہ کر دیا ہے۔
اسرائیلی ریڈیو نےاپنی صبح کی نشریات میں ایک رپورٹ میں بتایا کہ جب سے نیر برکات بیت المقدس میں صہیونی میئر منتخب ہوئے ہیں۔ اس کے بعد سے ہرسال بیت المقدس میں یہودی عبادت گاہوں کی تعمیر پر دوگنا بجٹ صرف کیا جاتا رہا ہے، تاہم اب سال 2012.-13ء کے صہیونی حکومت نے گذشتہ تین سالوں کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ خیال رہے کہ نیر برکات سنہ2009ء میں بیت المقدس کے میئر منتخب ہوئے تھے، جس کے بعد شہر مقدس میں یہودی آباد کاری، یہودیوں کے معابد اور کنیسوں کی تعمیر اور فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صہیونی بلدیہ نے سنہ 2009ء میں مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی معبد پر01 کروڑ شیکل( یعنی 27 لاکھ ڈالرز کی رقم مختص کی تھی اور اب نئے بجٹ میں اسے بڑھا کر 45 لاکھ ڈالرز کر دیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر صہیونی حکومت نے بیت المقدس میں یہودی معبد کی تعمیر کے لیے پانچ ملین ڈالرز کی رقم کا اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیل کی متعصب تنظیم "المفدال” کے رہ نما اور بیت المقدس کے ڈپٹی میئر "ڈیوڈ ہداری” بیت المقدس میں یہودی معبد کی تعداد اور اس کے لیے بھاری بجٹ کی منظوری کے پیچھے ان کا ہاتھ ہے کیونکہ ماضی میں بھی وہی صاحب بیت المقدس میں یہودی معبد کی تعمیرمیں زیادہ دلچسپی لیتے رہے ہیں۔
ادھر اسرائیلی نائب میئر برائے القدس ڈیوڈ ہداری کاکہنا ہے کہ انہوں نے القدس میں یہودی کنائس کی تعمیر پراضافی بجٹ صرف کرنے کی تجویز دی تھی۔ مرکزی حکومت کی جانب سے اضافی بجٹ کی منظوری پروہ بے حد خوش ہیں۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین

