فلسطین کا تاریخی شہر بیت المقدس صہیونی حکومت کی ریشہ دوانیوں کا مسلسل ہدف بنا ہوا ہے۔ صہیونی بلدیہ نے قدیم شہر میں ایک نئے بزنس سینٹر کے قیام کے لیے فلسطینیوں کا ایک ٹیکسی اسٹینڈ ختم کر دیا ہے۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق صہیونی ضلعی حکومت نے بزنس سینٹر کے قیام کی منظوری کے لیے درخواست صہیونی وزرات داخلہ کو چند ماہ پیشتر درخواست دی تھی۔ وزارت داخلہ نے یہ درخواس تمنظور کرتے ہوئے ضلعی حکومت کو قدیم شہر میں الارمن کے مقام پر یہ تجارتی مرکز قائم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
الارمن ٹاؤن کے مقامی فلسطینی شہریوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے انہیں وہاں پر ٹیکسیاں اور دیگر گاڑیاں کھڑی کرنے سے روک دیا ہے۔
قبل ازیں جمعرات کو الارمن کے فلسطینی باشندوں نے صہیونی حکومت کے اس غاصبانہ فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔ فلسطینی مظاہرین کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے ان کی ملکیتی چار ایکڑ اراضی کو ان سے سلب کر کےاس پر تجارتی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو انہیں ناقابل قبول ہے۔
خیال رہے کہ الارمن کے موجودہ ٹیکسی اسٹینڈ کے قریب ہی ایک جامع مسجد "الدیسی”بھی موجود ہےجو مقامی فلسطینی شہریوں کا اہم مرکز سمجھا جا تا ہے۔ ٹیکسی اسٹینڈ کی جگہ یہودیوں کے لیے تجارتی مرکز کی تعمیر کے بعد فلسطینیوں کو جامع مسجد الدیسی میں آنے سے بھی روک دیا جائے گا۔ اسرائیلی حکومت نے الارمن کے ٹیکسی اسٹینڈ پر گاڑی پارک کرنے والے کو دو سوشیکل جرمانہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

