مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق میراتھن دوڑ جمعہ کو علی الصباح مغربی بیت المقدس کی قدیم دیوار سے شروع ہوئی اور شہر کے وسط میں شاہراہ نمبر ایک پرجا کر ختم ہوئی۔ نام نہاد میراتھن دوڑ کا اصل مقصد بیت المقدس کی تاریخی حیثیت کو متنازعہ بنانے کی ایک نئی سازش ہے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض صہیونی فوج اور پولیس کی بڑی تعداد نے جمعہ کو علی الصبح سے شہر کے اہم مقامات کی سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے جگہ جگہ ناکے لگا کرشہریوں کی آمد ورفت بند کردی تھی۔ صہیونی پولیس کی ناکہ بندی کے باعث شہریوں کو نماز جمعہ کے لیے بیت المقدس تک رسائی میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی میراتھن ریس کے خلاف فلسطینی عوام میں سخت اشتعال پایا جا رہا ہے۔ فلسطینی شہریوں کی جانب سے میراتھن دوڑ کوبیت المقدس کے خلاف ایک گھنائونی سازش قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اسرائیل کی جانب سے بیت المقدس میں میراتھن ریس جیسے’’ایونٹ‘‘ کا اہتمام بیت المقدس کو مزید متنازعہ بنانے اور اسے صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کی سازشوں کو آگے بڑھانا ہے۔
بیت المقدس کی صہیونی بلدیہ نے القدس میراتھن ریس کے لیے آج جمعہ کا دن منتخب کرکے فلسطینیوں کی مسجد اقصیٰ تک پہنچنے میں رکاوٹ پیدا کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ میراتھن ریس کی سیکیورٹی پر 1000 باوردی اور 600 سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ اس موقع پر مسجد اقصیٰ کے آس پاس میں بھی بڑی تعداد میں یہودی پولیس اہلکار تعینات تھے۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
