(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیاتی حکومت نے بلدیہ کے سیکڑوں ملازمین کو قبل از وقت ریٹائرڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب ملازمت سے سبکدوشی کے ممکنہ فیصلے کے خلاف ملازمین نے احتجاج شروع کردیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا ہے کہ بیت المقدس میں اسرائیلی میئر نیربرکات نے بلدیہ کے سیکڑوں ملازمین کو سبکدوش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ بلدیہ اور اسرائیلی وزارت خزانہ کےدرمیان جاری بعض تنازعات کا نتیجہ ہے۔ وزارت خزانہ نے بیت المقدس کی اسرائیلی بلدیہ کو بجٹ کی رقوم کی منتقلی روکنے کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد صہیونی بلدیاتی حکومت نے اپنے ملازمین کم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ادھر دوسری جانب سبکدوشی کے ممکنہ فیصلے کے خلاف بلدیہ کے سیکڑوں ملازمین نے احتجاج شروع کردیا ہے۔ منگل کے روز بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے کوئی 200 ملازمین نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتہ قبل بیت المقدس کی صہیونی بلدیہ نے صفائی کے شعبے سے واسبتہ 170 ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ بلدیہ اپنے زیرانتظام کام کرنے والے 2000 دوسرے ملازمین کو بھی فارغ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ وزارت خزانہ کی جانب سے بلدیہ کے بجٹ میں کمی کے فیصلے کے بعد کیا گیا ہے۔ بجٹ میں کٹوتی ثقافت، رفاہ عامہ اور تعلیم سمیت کئی دوسرے شعبوں میں کی جائے گی۔
