فلسطین کے مقبوضہ بیت المقدس شہرمیں پچھلے چند ایام سے فلسطینی شہریوں اورصہیونی فوج میں کشیدگی میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ہفتے کے روز سماجی تنظیموں کی اپیل پربیت المقدس میں اسرائیل کی غیرقانونی یہودی آباد کاری کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں سیکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی۔ قابض فوج نے فلسطینیوں کی ریلی منتشر کرنے کے لیے حسب معمول طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی شہری زخمی بتائے جاتےہیں۔
عینی شاہدین اور مقامی شہریوں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق مشرقی بیت المقدس میں العیزریہ اور ابودیس کے مقامات پر فلسطینیوں اور قابض فوج میں اس وقت خون ریز جھڑپیں ہوئیں جب قابض فوجیوں نے فلسطینیوں کو ایک ریلی کے لیے جمع ہونے سے روکنے کے لیے ان پر لاٹھی چارج کیا اور اشک آور گیس کی شیلنگ کی۔ اس موقع پر قابض فوج کی جانب سے آواز پیدا کرنےوالا ایک "صوتی گرنیڈ” 16 سالہ لڑکے سید عفانہ کے چہرے پرجا لگا جس سے اس کے کئی دانٹ اور ایک پورا جبڑا ٹوٹ گیا ہے۔ اسے خون آلود اور زخمی حالت میں مقامی شہریوں نے اسپتال پہنچایا جہاں اسے انتہائی نگہداشت وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق صہیونی فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب سماجی تنظیموں کی کال پرسیکڑوں افراد نے بیت المقدس میں یہودی آباد کاری، اسرائیل کی ریاستی دہشت گردی اور مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ صہیونی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر اشک آور گیس اور لاٹھی چارج کے باوجود مظاہرین نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔ تشدد میں جب غیرمعمولی اضافہ ہوا تو مظاہرین نے بھی قابض فوج پر جوابی کارروائی کے طورپر ان پر پتھر پھینکے۔
قابض فوج نے اس موقع کارروائی کرتے ہوئے صفوت بصہ، محمود السماوی، حارس ابو دعموس اور زخمی صحافی رامی علاوریہ کو حراست میں بھی لے لیا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
