اسرائیلی اخبار "ہارٹز” نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ گذشتہ روز صہیونی بلدیہ نے الشیخ جراح میں مذہبی اسکول کی تعمیر کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس حوالے سے صہیونی ضلعی حکومت اور تعمیرو مرمت کمیٹی کا ایک اجلاس کئی ہفتے قبل بھی ہوا تھا جس میں الشیخ جراح کے مقام پر چار ایکڑ کے رقبے پر یہودی اسکول کے قیام پرغور کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اجلاس میں طے پایا کہ مذہبی مدرسے کے لیے سات منزلہ عمارت تعمیر کی جائے گی جس چار منزلیں زیرزمین ہوں گی۔
مرکز اطلاعات فلسطین کے مطابق "میریٹز” نامی ایک اسرائیلی تنظیم کے رہ نما یوسف الوو نے حال ہی میں صہیونی بلدیہ سے درخواست کی تھی کہ وہ الشیخ جراح کے مقام پر یہودی مذہبی اسکول کے قیام کی تجویز پر دوبارہ غور کرے۔
خیال رہے کہ شیخ جراح میں فلسطینیوں کے ملکیتی ایک پلاٹ پر یہودی مذہبی اسکول کے قیام کی اسکیم کئی ماہ سے تیار کی جا رہی تھی ۔ یہ جگہ سنہ 1980ء میں قبضے میں لی گئی تھی۔ اسرائیل نے فلسطین سے جبری بے دخل کرنے کے بعد فلسطینیوں کو املاک متروکہ کے عنوان سے ایک جعلی قانون کی آڑ میں قبضے میں لینا شروع کر رکھا ہے۔ یہ زمین بھی اسی قانون کی آڑ میں ہتھیائی گئی تھی۔
