مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق عبرانی ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبروں میں پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ ہفتے کی شام بیت المقدس میں الطور کالونی میں اس وقت پیش آیا جب یہودی پولیس اہلکار سڑک کےکنارے اپنی معمول کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔ اس دوران ایک کار سوار شخص نے اپنی کار ان پر چڑھا دی جس کے نتیجے میں تین خواتین پولیس اہلکار زخمی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہےجبکہ دو کی حالت اب کچھ بہتر ہے۔
ادھر اسرائیلی پولیس کی خاتون ترجمان لوبا السمری کاکہنا ہے کہ ہفتے کی شام ایک کار سوار کی ٹکر سے تین پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے کار کی ٹکرکو ایک دشمنانہ کارروائی قرار دیا
مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار نے بیت المقدس میں اپنے ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی پولیس ابھی تک یہ تعین نہیں کرسکی کہ آیا یہ واقعہ کیسے اور پیش آیا اور اس کا کیا محرک ہوسکتا ہے۔
ادھر بیت المقدس میں ہفتے کے روز حالات بدستور کشیدہ رہے۔ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی بچے کی شہادت کے خلاف فلسطینی شہریوں نے سڑکوں پر ٹائر جلا کر احتجاجی مظاہرے کیے۔ بیت المقدس میں ’’کیفیم‘‘ نامی ایک یہودی ٹرانسپورٹ کمپنی کی بس پر مشتعل فلسطینیوں نے پٹرول بموں سے حملہ کیا جس کے نتیجے میں بس کو آگ لگ گئی۔ بس کو آگ لگنے سے ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم رہا۔
بیت المقدس میں دن بھر صہیونی فوجیوں اور فلسطینی شہریوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہیں۔ فلسطینی شہریوں کی جانب سے اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ سولہ سالہ شہید ابو غنام کا جسد خاکی اس کے اہل خانہ کے حوالے کردے۔ تاہم صہیونی فوجیوں نے شہید کا جسد خاکی حوالے کرنے سے انکار کردیا تھا۔
بشکریہ:مرکزاطلاعات فلسطین
