مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے مکانات کی مسماری کی ظالمانہ صہیونی پالیسی کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کے روز صہیونی حکومت نے
بیت المقدس کے مرکزی علاقے سلوان میں بستان کالونی میں فلسطینیوں کے پانچ مکانات مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق سلوان میں دفاع اراضی کمیٹی کے چیئرمین اور مقامی فلسطینی سماجی رہ نما فخری ابو دیاب نے بتایا کہ بیت المقدس میں اسرائیلی حکومت کی ضلعی حکومت کی طرف سے پانچ فلسطینی مالکان کو مکانات خالی کرنے کے بعد انہیں مسمار کرنے کے نوٹسز تقسیم کیے۔ صہیونی حکومت کی جانب سے جن فلسطینیوں میں مکانات کی مسماری کے نوٹسز جاری کیے گئے ہیں، انہیں ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ حکومت کے اس فیصلےکے خلاف کسی عدالت میں اپیل نہیں کر سکتے۔ انہیں ہر صورت میں مکانات مسمار کرنا ہوںگے۔
فخری ابودیاب نے بتایا کہ اسرائیلی حکومت نے پارلیمنٹ سے ایک قانون منظور کرا رکھا ہے۔ اس قانون کے تحت صہیونی حکومت کسی بھی فلسطینی شہری سے مکان خالی کرانے کی مجاز ہے۔ گوکہ اس قانون کا اطلاق ان مکانات اور جائیدادوں پر ہوتا ہے جن کی ملکیت مشکوک سمجھی جاتی ہے لیکن صہیونی حکومت اس قانون کا غلط استعمال کرتے ہوئے صدیوں سے آباد فلسطینیوں کو مقدس شہر سے بے دخل کرنے کی سازش کر رہی ہے۔
