فلسطین کے شہر بیت المقدس میں مقامی شہریوں کا مکانات مسماری اور یہودی بستیوں کی تعمیر خلاف احتجاجی دھرنا جاری ہے۔ بیت المقدس میں مسجد اقصیٰ کے جنوب میں البستان کالونی میں مظاہرین نے دھرنا کیمپ ہی میں نماز جمعہ بھی ادا کی۔
نماز جمعہ کے بعد بڑی تعداد میں شہریوں نے یہودی بستیوں کی تعمیرو توسیع اور فلسطینیوں کے مکانوں کی مسماری کےخلاف دھرنے میں شرکت کی۔ خیال رہے کہ بیت المقدس میں بستان کالونی کے قدیمی باشندوں کو قابض حکوتم کی طرف سے اپنے 88 مکانات کی مسماری کے احکامات دیے گئے تھے۔ مکانات مسماری کے باعث 1500 افراد کے بے گھرہونے کا اندیشہ ہے۔
احتجاجی مظاہرین کی کمیٹی کے ایک رکن اور بیت المقدس میں فلسطینیوں کے سرکردہ وکیل احمد الریضی نے میڈیا کو بتایا کہ اسرائیلی حکومت ایک کھلی سازش کے تحت بیت المقدس سے فلسطینیوں کا صفایا کرنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قابض حکومت کی جانب سےفلسطینی شہریوں کے مکانات کی مسماری کرکے یہاں یہودیوں کو بسانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس کی البستان کالونی کے اٹھاسی مکانات کی مسماری کے نوٹسز جاری کئے تھے۔ ان مکانوں کے مالکان کو کہا گیا تھا کہ انہوں نے غیرقانونی طورپرتعمیرات کر رکھی ہیں جنہیں فی الفور گرایا جائے۔ اسرائیلی حکومت کی اس نسل پرستی کےخلاف فلسطینیوں نے سخت احتجاج کیا ہے اور گذشتہ کئی روز سے البستان کالونی میں مقامی شہریوں کا دھرنا جاری ہے۔
بشکریہ: مرکز اطلاعات فلسطین
