(فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بتایا ہے کہ اسرائیل کے ہاں زیرحراست فلسطینی بھوک ہڑتال فلسطینی شہری کو الجلمہ جیل سے مجد قید خانے منتقل کردیا گیا ہے۔بھوک ہڑتال فلسطینی نوجوان کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم’’القدس شہداء فاؤنڈیشن‘‘ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بھوک ہڑتال فلسطینی حسنین شوکہ کو بھوک ہڑتال کے بعد الجلمہ جیل سے مجد قید خانے منتقل کردیا گیا ہے۔ 27 سالہ حسنین شوکہ کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ اسیر حسنین شوکہ کی الجلمہ جیل سے مجد منتقلی کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ تاہم بھوک ہڑتال کے باعث اس کی حالت خطرناک بیان کی جاتی ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ بھوک ہڑتالی قیدی کو ایک سے دوسری جیل منتقل کیے جانے کا عمل نہایت تکلیف دہ اور ظالمانہ تھا۔ اسے زنجیریوں میں جکڑ کر گاڑی میں ڈالا گیا جس کے بعد اسے الجلمہ سے مجد جیل منتقل کردیا گیا۔
خیال رہے کہ حسنین شوکہ نے اپنی بلا جواز انتظامی حراست کے خلاف 37 دن قبل بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے اسے بھوک ہڑتال توڑنے پر مجبور کرنے کے لیے تشدد بھی کیا گیا تاہم فلسطینی نوجوان نے اپنی بھوک ہڑتال پوری ثابت قدمی سے جاری رکھی ہوئی ہے۔
انسانی حقوق گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حسنین کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے اور اس نے بھوک ہڑتال جاری رکھی تو اس کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ بیان میں حسنین شوکہ کی بھوک ہڑتال کی ذمہ داری صہیونی انتظامیہ پرعائد کی اور کہا کہ صہیونی مظالم کے رد عمل میں فلسطینی قیدیوں کو بھوک ہڑتال پرمجبور ہونا پڑا ہے۔
